The news is by your side.

Advertisement

سیاسی جماعتیں فنڈنگ ذرائع بتانےکی پابند ہیں‘چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت ملتوی ہوگئی،اکرم شیخ اگلی سماعت پراپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل انورمنصورسے کیس کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ امید ہے کہ آپ کی صحت اچھی ہوگی جس پرتحریک انصاف کے وکیل نے جواب دیا کہ زیادہ دیر کھڑاہونا مشکل ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی بھرپور معاونت کی کوشش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیزایکٹ میں2002میں ترمیم کی گئی جبکہ ترمیم میں الیکشن کمیشن سےآڈٹ کا اختیار واپس لے لیا گیا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کوپڑتال کرنےکابھی اختیارنہیں؟ جس پر تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ تفصیلات قانون کےمطابق نہ ہوتو واپس کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کومتعلقہ تفصیلات پیش کرنےکا کہا جاتاہے، چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتیں فنڈنگ کےذرائع بتانےکی پابند ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کوواضح کرناہوتاہےفنڈنگ قانون کےمطابق ہے اور سیاسی جماعتیں فنڈنگ کےمعاملےپرقابل احتساب ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ غیرملکی فنڈنگ کوکوئی خود توسامنےنہیں لائےگا جس پر تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن فنڈنگ کرنے والوں کی تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریماکیس دیے کہ الیکشن کمیشن کسی کواکاؤنٹ درست ہونےکاسرٹیفکیٹ نہیں دیتا،جس پرانور منصور نے کہا کہ عدالت کےسامنے تمام ریکارڈ رکھ دیا ہے۔

انورمنصور نے کہا کہ کیا صرف پی ٹی آئی کی غیرملکی فنڈنگ کامقدمہ ہی سناجانا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے خلاف شکایت ہےتوالیکشن کمیشن کارروائی کرے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نےاپنےجواب میں پی ٹی آئی کوفراڈ قراردیا ہے، جسٹس عمرعطا بندیال نے ریماکیس دیے کہ الیکشن کمیشن سنےبغیرکیسےفراڈکہہ سکتاہے۔؟

انور منصور نے کہا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے جواب میں استعمال زبان کا جائزہ لے، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ تعصب کا الزام لگا کرجانچ پڑتال سےجان چھڑائی جاسکتی ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ آڈٹ کرانا ہے توسب کا کرائیں، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوآزادانہ فیصلےکا بھی کہہ سکتے ہیں۔

انورمنصور نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کونشانہ بنایاجارہاہے،ن لیگ لندن میں کمپنی رجسٹرڈ ہے، چیف جسٹس نے ریماکیس دیے کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لائیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ دفاع اچھانہیں کہ ’صرف مجھےسزانہ دو‘ جس کے جواب میں تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن معاملے پرواحد فورم ہے جوتعصب کا مظاہرہ کررہا ہے۔


لندن فلیٹ خریداری میں منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ‘ نعیم بخاری


چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جودیشل کونسل کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایگزیکٹوفورم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کےپاس فیصلےکااختیارہے۔

انورمنصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کےپاس فیصلےکرنےکااختیارنہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نےاپنےجواب میں عموعی بات کی ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ جواب میں پی ٹی آئی کیس کےریفرنس کی بات کی گئی،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن صرف جمع کرائےگئے ریکارڈ کا جائزہ لےسکتا ہے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے ریماکیس دیے گئے کہ الیکشن کمیشن کوجائزہ لینےاورتفصیلات مسترد کرنےکا اختیارہے، جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ جائزہ لینےکا اختیارہے تحقیقات کرنےکا نہیں۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریماکیس دیے کہ کوئی خود اپنی غیرقانونی بات نہیں بتاتا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کےکیس میں معلومات چند سال بعد سامنے آئیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ معاملہ براہ راست عدالت آتا توآپ کا مؤقف کیاہوتا؟ انہوں نے کہا کہ عدالت جانچ پڑتال کےلیےمعاملہ الیکشن کمیشن کوبجھوا دیتی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کسی اورکے خلاف درخواست آتی الیکشن کمیشن کوبھیجی جاتی۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ بطورکمیشن معاملہ کسی کوبھی بھجوایا جاسکتا ہے۔

انور منصور نے کہا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایاجاسکتا، انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹس تفصیلات عوام کی معلومات کےلیےشائع کی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تفصیلات شائع کرنےکا مطلب اعتراضات طلب کرنا ہوسکتا ہے،جس کے جواب میں تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ قانون میں عوام سےاعتراضات مانگنےکی گنجائش نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ ارکان اسمبلی کی تفصیلات شائع کرنا قانون میں درج ہے؟ جس پر انور منصور نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کےتحت اثاثوں کی تفصیلات شائع کی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام سیاسی جماعتوں سےحساب لیناہے،جس کے جواب میں تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ انتخابی نشان لینےکےبعد حساب نہیں لیا جاسکتا۔

تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ انتخابی نشان ملتا ہی حساب لینےکےبعد ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن اگر5 ہزارڈالر کا سوال کرے توکیا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا آڈیٹرکوبتایاجاتاہے فنڈزممنوع ذرائع سےنہیں۔؟

انورمنصور نے کہا کہ دوسری جماعتوں کی آڈٹ رپورٹس پراعتراضات ہوئےہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ دوسری جماعتوں کا معاملہ سامنےآیا تو دیکھیں گے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کےپاس 184/3میں لامحدوداختیارات ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن تحقیقات میں تعین کرلےگا فنڈزممنوع ہیں یا نہیں۔

انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس قانون کےتحت انکوائری کااختیاررکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں الیکشن کمیشن کوذرائع سےمعلومات لینے کا اختیارنہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آڈیٹرکوتوسیاسی جماعت خود تعینات کرتی ہے،جس کے جواب میں انور منصور نے کہا کہ آڈیٹرسے کچھ چھپایا جائےتورپورٹ میں لکھا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتےہیں آڈیٹرکا لائسنس منسوخ ہو فنڈنگ ضبط نہ ہو، تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوتحقیقات نہیں جانچ پڑتال کا اختیارہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ اختیارات نہ ہوں توآڈٹ نہیں کیاجاسکتا، انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا الیکشن کمیشن اپنی مرضی کرے۔

انور منصور نےکہا کہ الیکشن کمیشن کوجانچ پڑتال کا اختیارہرسال ہوتا ہے جبکہ قانون میں الیکشن کمیشن کولامحدوداختیارات نہیں دیےگئے۔

تحریک انصاف کے وکیل انور منصورنے کہا کہ غیرملکی اورممنوع فنڈنگ2 الگ چیزیں ہیں۔


حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کے دلائل


حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے 800 صفحات پر مشتمل جعلی دستاویزات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی اورممنوعہ فنڈنگ کو چھپانےکی کوشش کی گئی۔

اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کےمطابق پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والوں سے فنڈنگ لی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے پاکستانی شہریت نہیں رکھتے۔

حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نےاپنے جوابات میں الزامات کوغلط قرارنہیں دیا بلکہ صرف اپنے ایجنٹس کے بیان حلفی جمع کرائے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ جعلی دستاویزات دے کر عدالتی وقار کی توہین کی گئی جبکہ فارا کی ویب سائٹ پرپی ٹی آئی کاتمام ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہےتمام معلومات فاراکوفراہم نہ کی گئی ہوں۔

حنیف عباسی کے وکیل نےکہا کہ پی ٹی آئی ایجنٹ کا بیان حلفی جولائی 2017 کا ہے انہوں نے کہا کہ میں نہیں کہتا انورمنصور ریکارڈ تیار کرانے امریکہ گئے تھے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے کہنے پربعض جوابات بعد میں منگوائے تھے، انہوں نے کہا کہ بعد میں آنےوالے جواب میں تاریخ نئی ہی ہوگی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں