The news is by your side.

Advertisement

نا اہلی کیس: عمران خان بری/ جہانگیر ترین نا اہل قرار، تفصیلی فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو نا اہل قرار دینے کی استدعا مسترد کردی‘  جبکہ جہانگیر خان ترین کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے‘ عمران خان پر لندن فلیٹ‘ بنی گالہ اور جہانگیر ترین پر زرعی اراضی ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا فیصلہ سنادیا، عدالت نے جہانگیر ترین کے خلاف دائر کردہ درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے انہیں نا اہل قرار دے دیا۔

مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے مذکورہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، تفصیلی فیصلہ80 صفحات پرمشتمل ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جہانگیرترین کو دو نکات پر نااہل کیا گیا ہے، انہوں نےملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے جھوٹ بولا۔

جہانگیرترین نےآف شورکمپنی اوراس کےاثاثے کو بھی چھپایا، انسائیڈرٹریڈنگ سے متعلق ایس ای سی پی تحقیقات کرچکا ہے، جہانگیرترین انسائیڈر ٹریڈنگ کرنے پر70.81ملین جرمانہ دے چکے ہیں۔

درخواست بد نیتی پر مشتمل ہے ، عدالت 

فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی کا درخواست دائر کرنا بد نیتی پر مشتمل ہے، درخواست گزار مسلم لیگ ن کا نمایاں رکن ہے، مذکورہ درخواست نوازشریف کیخلاف کیس پر کاؤنٹر بلاسٹ ہے۔

ججز کا اپنے ریمارکس کہنا تھا کہ معاشرے میں صداقت ہو تو اس قوم میں آئین کی حکمرانی ہوتی ہے، حکومت میں بددیانت لوگ ہوں تو وہ قوم جلد بھٹک جاتی ہے، حکومت صرف ایگزیکٹو کانام نہیں بلکہ مقننہ اور عدلیہ بھی اس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ریاستیں جہاں ایماندار لوگ نہیں ہوتے وہ پیچھے کی جانب بھاگتی ہیں، ریاستی ڈھانچہ ایمانداری اورایماندارلوگوں پرقائم ہوناچاہئیے۔

واضح رہے کہ تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواست مسلم  لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے  دائرکی گئی تھی ۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان نے گوشواروں میں اپنے لندن فلیٹ اور آف شورکمپنی ظاہرنہیں کی، اس کے علاوہ انہوں نےبنی گالہ کی جائیداد بھی ظاہرنہیں کی، دوسری جانب جہانگیر ترین پر زرعی اراضی کی آمدنی درست ظاہرنہ کرنے کا الزام ہے۔


عدالتی فیصلے کے مرکزی نکات


سپریم کورٹ نے عمران خان کی نا اہلی کے لیے حنیف عباسی کی جانب سے دائر کردہ درخواست مسترد کردی ہے جبکہ جہانگیر ترین کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار اس مقدمے میں متاثرہ فریق نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن اثاثوں کی چھان بین کاپابند ہے‘ الیکشن کمیشن غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرےگا۔ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی بد نیتی ثابت نہیں ہوئی ‘ ان پر اپنی آف شور کمپنی ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا۔

عدالت کے مطابق عمران خان نےلندن فلیٹ ایمنسٹی اسکیم میں ظاہرکردیاتھا۔ وہ ’عمران خان نیازی سروسز‘ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹرنہیں تھے۔ حنیف عباسی کی درخواست میرٹ پر خارج کی گئی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے اپنے بیان میں مشکوک ٹرم استعمال کیے، یہ بھی کہا گیا کہ جہانگیرترین سماعت میں سوالات کے  درست جوابات نہیں دے رہے تھے‘ آف شورکمپنیاں ان کی ملکیت ہیں۔ اسی سبب وہ انسائیڈرٹریڈنگ کےجرم کے مرتکب ہوئے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیرترین نے ڈرائیوراور باورچی کے نام پرجائیدادیں رکھیں اور انہوں نےاعتراف جرم کیااورجرمانہ بھی اداکیا۔ بطور وفاقی وزیر جہانگیر ترین نے اپنا اثرو رسوخ اختیار نہیں کیا۔ ان کے قرضے شیئر ہولڈر بننے سے پہلے معاف ہوئے۔

سپریم کورٹ نے استسفارکیا کہ’سوال یہ ہےکہ کیااعتراف پرنااہلی جرم بنتی ہے؟‘ زرعی ٹیکس کم دینے پرنااہلی کی استدعا کی گئی۔ جہانگیر ترین کے خلاف زرعی ٹیکس پرکارروائی نہیں کرسکتے، زرعی ٹیکس کامعاملہ متعلقہ فورم پرزیر التواہے۔


مقدمےکا فیصلہ دوپہر دوبجے سنایا جاناتھا‘ تاہم اس میں کچھ تاخیر ہوئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک صفحے پر ٹائپنگ کی غلطی تھی جس کے سبب تمام 250صفحات دوبارہ پڑھنے پڑ گئے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین پر لندن میں خفیہ  پراپرٹی رکھنے کا بھی الزام تھا۔ حنیف عباسی نےپی ٹی آئی پربیرون ملک سے فنڈز لینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی اور یہ سماعت58پیشیوں میں مکمل کی گئی۔

مزید پڑھیں : عدالت میں جمع کروائی گئی ایک بھی دستاویز غلط ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا: عمران خان

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کو ہاٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اوران  کے کیسز میں بہت فرق ہے، سپریم کورٹ میں 60 دستاویزات جمع کروائیں، ایک بھی غلط ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔

مزید پڑھیں : نااہلی کیس کا جو بھی فیصلہ آیا تسلیم کروں گا، جہانگیر ترین

تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین کا اے آروائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں کہنا تھا کہ کہ احتساب سے خوفزدہ نہیں ہیں، عدالت نے نااہلی کیس جو بھی فیصلہ دیا اُسے من و عن تسلیم کروں گا۔

 چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ 14 نومبر  کومحفوظ کیا تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل کا کہنا تھا  کہ عمران خان کے 2002 کے اثاثوں میں غلطی ہو سکتی ہے، غلط بیانی نہیں کی جبکہ حنیف عباسی کے وکیل کادعویٰ تھا کہ عمران خان نےجھوٹ بولا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تمام مواد دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں