The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم نے سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں کی مانیٹرنگ شروع کردی

کراچی : وزیراعظم عمران خان نے سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں کی ذاتی طور پر مانیٹرنگ شروع کردی، تین سے زائد افسران پر مشتمل وفد کے غیرملکی دورں پر روانگی وزیر اعظم عمران خان کی اجازت سے مشروط کر دی گئی۔

تین سے زائد افسران پر مشتمل سرکاری وسائل پر غیرملکی دورہ کرنے والے وفد کی روانگی کے لیے فنانس ڈویثرن اور فارن افئیر ڈویثرن وزیر اعظم کی اجازت کے لیے تفصیلات بھیجنے کے پابند ہوں گے۔

سی اے اے کے شعبہ ایچ آر نے15غیرملکی دوروں کی تفصیلات سی اے کے تمام ڈائریکٹروں ڈپٹی ڈی جیز اور ایڈیشنل سیل کو بھجوا دیں، وزارت داخلہ نے سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کر دیں۔

غیر ملکی دوروں کے لیے فیڈرل سیکرٹری اور متعلقہ وزارت کا وزیر گریڈ 20 سے گریڈ 22 تک کے افسران پر مشتمل تین رکنی وفد کے غیر ملکی دورے کی اجازت دینے کا اہل ہوگا۔

سیکرٹری محکمے کا ایڈیشنل سیکرٹری اور متعلقہ وزیر گریڈ 19 کے افسران پر مشتمل تین رکنی وفد کے غیر ملکی دورے کی اجازت دینے کا اہل ہوگا۔

تین سے زائد افسران پر مشتمل غیر سرکاری وسائل پر غیرملکی دورہ کرنے والے وفد کی روانگی کے لیے صرف فارن افئیر ڈویثرن وزیر اعظم کی اجازت کے لیے تفصیلات بھیجنے کا پابند ہوگا۔

غیر سرکاری وسائل پر اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے بیرون ملک اجلاس میں شرکت کے لیے این او سی ملنے کے بعد دورہ کیا جائے گا۔

گریڈ 20 اور اوپری درجوں کے افسران کو فارن افئیر کی جانب سے جاری این او سی پر بیرون روانگی کے لیے فیڈرل سیکرٹری اور متعلقہ وزارت کے وزیر کی اجازت سے بیرون ملک بھیجا جاۓ گا۔

سرکاری وسائل پر بیرون ملک دو طرفہ اور کثیر جہتی اجلاس میں شرکت کے لیے تین سے زائد افسران پر مشتمل وفد کی تفصیلات فنانس ڈویثرن اور فارن افئیر ڈویثرن کی جانب سے وزیر اعظم کو بھجوائی جائیں گی۔

وفاقی محکموں میں تعینات گریڈ 22 کے افسران بزنس کلاس ٹکٹ پر بیرون ملک روانہ ھونے کے اہل ہونگے، بیرون ملک پاکستانی مشن متعلقہ محکمے کی جانب سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق متعلقہ ملک میں منعقد اجلاس اور کانفرنسوں میں پاکستان کی ترجمانی کرے گا۔

بیرون ملک پاکستانی مشن کانفرنسوں اور اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا اسکی تفصیلات سمری میں الگ سے فراہم کرے گا۔
متعلقہ وزارت کی جانب سے سی اے اے وفد کو اجازت نہ ملنے کی صورت میں متعلقہ ملک میں موجودہ پاکستانی نمائندہ سی اے اے وفد کی جگہ شرکت کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں