site
stats
پاکستان

ڈی آئی خان واقعہ پر کچھ لوگ حقائق کو مسخ کررہے ہیں، عمران خان

imran

اسلام آباد : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے ڈی آئی خان میں لڑکی کے ساتھ قابل مذمت جرم ہوا ہے جس پر میڈیا کے کچھ حصے اورسیاست دان حقائق کو مسخ کر رہے ہیں حالانکہ ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں اور پولیس نے کیس سلجھایا دیا ہے. 

وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 16 سالہ لڑکی کو بے لباس کرکے گاؤں میں گھومانے کے افسوسناک واقعے پر ردعمل دے رہے تھے، عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، میڈیا کے کچھ حصے اور سیاست دانوں کا یہ اقدام شرم ناک ہے.

عمران خان نے کہا کہ حقائق کو جھٹلا کر واقعے سے متعلق الجھن پھیلائی جا رہی ہے جب کہ آئی جی خیبر پختونخواہ واقعے کے حقائق سے متعلق بیان جاری کرچکے ہیں اور جرم کے ارتکاب کے دن ہی مقدمہ درج کیا گیا تھا جب کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے نامزد 9 میں سے 7 ملزم گرفتار ہوچکے ہیں.

 

 


  ڈی آئی خان میں لڑکی کو برہنہ گھمانےکا افسوس ناک واقعہ


 

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ملزم کو واقعے کے اگلے روز گرفتار کیا گیا جب کہ واقعے میں ملوث ایک اور ملزم تا حال مفرور ہے جسے حراست میں لیے جانے کے لیے کارروائی جا رہی ہے اور گرفتار ملزمان میں سے 3 ملزمان اعتراف جرم بھی کر چکے ہیں اسی طرح دیگر3 افراد سہولت کاری کے الزام میں گرفتار ہیں.


 علی امین گنڈا پور پر الزام، تحریک انصاف نے داور کنڈی کو پارٹی سے نکال دیا


خیال رہے کہ 27 اکتوبر 2017 کو ڈیرہ اسماعیل خان کےدور دراز گاؤں میں مسلح ملزمان نے 16 سال کی شریفن بی بی کو بے لباس کرکے پورے گاؤں میں گھومایا گیا جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی داور کنڈی نے اپنی ہی جماعت کے صوبائی وزیر امین گنڈا پور پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top