site
stats
پاکستان

امریکا مزید لڑائی کے بجائے طالبان سے بات کرے،عمران خان

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ طالبان سے مزید لڑائی کے بجائے امریکا ان سے بات کرے، افغانستان میں مزید خون خرابہ اور صرف لڑائی جواب نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں نئی امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے مزید لڑائی کے بجائے امریکا ان سے بات کرے ، افغانستان میں مزید خون خرابہ اور صرف لڑائی جواب نہیں، 17 سال پہلے بھی کہا تھا آج بھی یہی کہہ رہا ہوں۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کو مسترد کرتاہوں، امریکی صدرٹرمپ کے پاکستان پر الزامات سے دکھ ہوا، طالبان کے محفوظ ٹھکانے افغانستان میں ہیں، طالبان افغان سرزمین سے پاکستان پرحملےکرتےہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ امریکی صدرکی نئی پالیسی میں خامیاں ہیں، پاکستان پرطالبان کوشکست نہ دینے کا الزام غیر منصفانہ ہے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف بہت اقدامات کیے، دہشت گردی کے خلاف دوسرے ممالک کو اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاک بھارت کشیدگی کا ذمہ دارمودی کو قراردیتے ہوئے عمران خان نے کہا مودی فرقہ وارانہ سوچ سے باہرنہیں نکل سکے۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ نے اپنی تقریر کے ذریعے پاکستانیوں کی توہین کی ، عمران خان


ڈرون حملوں سے متعلق سربراہ تحریک انصاف نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ڈرون حملوں سے نقصان ہوتا ہے، ڈرون حملے کامیاب اسٹریٹیجی ہوتی تو جنگ جیتی جاچکی ہوتی، ڈرون حملوں کےجواب میں جنگجوپاکستانی عوام کونشانہ بناتے ہیں۔

یاد رہےگذشتہ ماہ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا تھا ٹرمپ نے اپنی تقریر کےذریعے پاکستانیوں کی توہین کی، ٹرمپ کےخیالات نے ہر پاکستانی کے جذبات بری طرح مجروح کئے، پاکستان کوامریکی جنگ میں معاونت کابھاری جانی ومالی نقصان پہنچا اور 70ہزار پاکستانیوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں گنوائیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا تکلیف دہ ہے، امریکہ کی ناکام پالیسیوں کا تسلسل ہےجس کا بوجھ اس پرہے، امریکہ قتل عام کے بجائے متبادل رستوں کا انتخاب کرے اور افغانستان سے رخصتی کے آپشن پرسنجیدگی سے غورکرے، امریکہ دہشتگردوں کی پناہ گاہوں سےواقف ہے تو پاکستان کو مطلع کیوں نہیں کرتا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top