The news is by your side.

Advertisement

نریندر مودی! اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کا آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب

مظفر آباد: وزیر اعظم پاکستان عمران خان آج آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی  کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں امبیسیڈربن کر کشمیر کی آوازدنیا میں اٹھاؤں گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج یوم آزادی کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنے کے لیے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پہنچے ہیں۔

پاکستان میں آج یومِ آزادی جوش  وجذبے سے منایا جارہا ہے اور اس اہم دن پر پاکستان کے عوام کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کرنے کے لیے آج کے دن کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منا رہے ہیں۔

اجلاس میں آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بھی موجود ہیں ، ساتھ ہی ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر برائے کشمیر امورعلی امین گنڈا پور بھی موجود ہیں۔

اس کے علاقہ اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصراورچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، گورنراوروزیراعلیٰ کےپی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

میں دنیا بھر میں کشمیر کا سفیر بن کر جاؤں گا، وزیر اعظم عمران خان


وزیراعظم عمران خان کاآزادکشمیرقانون سازاسمبلی کےاجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ یوم آزادی پرکشمیری بھائیوں کےساتھ ہوں۔ اس وقت کشمیریوں کےساتھ ہوں جب وہ سب سےبڑےبحران سےگزررہےہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مودی اور بی جے پی کی اصل شکل کودنیا کے سامنے رکھا ہے، ساری دنیامیں پہلی بارمیں نےبی جےپی کی اصل شکل دنیاکودکھائی۔ میں نےبتایاکہ ہماری جدوجہدوسائل نہیں نظریےکی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی بچپن سے آر ایس ایس کے ممبرہیں۔ آرایس ایس نےاپنانظریہ ہٹلرکی نازی پارٹی سےلیاہے، ان کی طرح یہ بھی خودکوبرترسمجھتےہیں۔

یہ نظریہ ان سب سےنفرت کاہےجنہوں نےبھارت پرحکومت کی، یہ نظریہ ان سب سےنفرت کاہےجنہوں نےان پرحکومت کی۔ ہم ان کانظریہ سمجھ جائیں توکشمیرسمیت بہت سےچیزیں سمجھ آجائیں گی۔

وزیراعظم عمر ان خان نے کہا کہ ابتدا میں قائداعظم مذہب سےبالاترہوکربھارت کی آزادی کاسوچ رہےتھے، تاہم بعد میں قائداعظم نےسمجھ لیاتھاکہ ہندوؤں کی آزادی مسلمانوں کےلیےنہیں۔ قائداعظم نےکہاتھا کہ مسلمانوں کونہیں پتا وہ ایک اورغلامی میں جارہےہیں۔ 1937کےالیکشن کےبعدمسلمانوں کوایک وزارت نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ آرایس ایس کےتنگ نظریےکی وجہ سےپاکستان بنا،اسی نظریےکی وجہ سےمہاتماگاندھی کوقتل کیاگیا۔اس نظریےنےبھارت میں پھیلناشروع کیا،گائےکاگوشت کھانےپرمسلمانوں کوماراگیا۔ مقبوضہ کشمیرمیں جوظلم کیےگئےوہ آرایس ایس کےنظریےتحت تھے، دنیامیں کوئی ردعمل نہ آنےپربھارت اس نظریےمیں آگےبڑھتاگیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھےڈرہےکہ مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوہٹےگاتوکیاصورت سامنےآئےگی۔ کس خوف کےتحت سیاحوں کونکالا گیا،کرفیولگایاگیا۔ بھارت نےاپناآخری کارڈکھیل دیاہےیہ سب مودی کوبہت بھاری پڑےگا، مودی نے اسٹرٹیجک بلنڈرکردیا۔ دنیا کی نظریں اب کشمیر اور پاکستان پرہیں۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یہ عالمی طاقتوں کا اور بین الاقوامی تنظیموں کا امتحان ہے ، خصوصاً اقوام متحدہ کا جس نے  کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا تھا، وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کے حق خود رائے دہی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ساری دنیا میں پیغام جائے گا کہ  جہاں کمزور اور طاقت ور کی لڑائی ہو وہاں طاقتور کی حمایت کی جاتی ہے۔

بھارت نےمقبوضہ کشمیرکودنیامیں ایک باربھرپورتوجہ دلادی ہے،اب پاکستان پرہےوہ اس مسئلےکوکیسےدنیامیں اٹھاناہے،میں اب کشمیرکےلیےدنیامیں آوازاٹھانےوالاسفیربنوں گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیانہیں جانتی آرایس ایس کانظریہ نازی پارٹی جیساہی خطرناک ہے،لوگ اب بھی بھارت کونرواناوالاملک سمجھتےہیں۔بھارتی وزرا کے بیانات ایسے ہیں، جوبیمارلوگ دیتے ہیں،یہ ذہنیت ایک بیمارذہنیت ہے،یہ وہ نظریہ ہےجس نےدنیامیں تباہی مچائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں اطلاع ہےکہ بھارت نےآزادکشمیرمیں تباہی کامنصوبہ بنایاہواہے،اطلاعات ملی ہیں یہ آزاد کشمیر میں پلوامہ سے زیادہ خوفناک منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ میں مودی کوپیغام دیتاہوں کہ آپ کی اینٹ کاجواب پتھرسےدیاجائےگا، مودی کو بتانا چاہتا ہوں اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہماری فوج 20 سال سےلاشیں اٹھارہی ہے،فوج اورقوم دونوں تیارہیں۔ مودی نے آخری کارڈ کھیل دیا، مقبوضہ کشمیر اب آزادی کی طرف جائے گا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ میں نہیں مانتا کہ مسائل جنگوں سے حل ہوتے ہیں، لیکن بھارت اور نریندر مودی نے اپنا ذہن بنالیا ہے۔ان کاتوایک ہی نظریہ ہےکہ پاکستان کوسبق سکھاناہے۔ ایسی صورتحال میں مسائل کا حل مشکل ہوجاتا ہے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے آج کے دن کی مناسبت سے قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کیا کہ کس طرح انہوں نے مذاکرات کے ذریعے برصغیر کے اس وقت کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کیا۔


وزیراعظم آزاد کشمیر کا خطاب

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کاشکریہ اداکرتاہوں، قوی امیدہےکہ اجلاس کےدوررس نتائج نکلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرکےسفرکو72نہیں500سال ہوگئےہیں، سنہ 1832میں گلاب سنگھ نےکشمیرمیں قتل عام کیا تھا۔

آزاد کشمیر کے اسپیکر کا خطاب

اس موقع پرآزاد کشمیر کے اسیپکر شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت کے یہاں آنے سے کشمیریوں کو پیغام ملا ہے کہ حکومتِ پاکستان ہمارے ساتھ ہے، آزاد کشمیر تشریف لانے پر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کشمیر اورکشمیری عوام نے اپنا مقدمہ پاکستان کے ہاتھ میں دیا ہوا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں