The news is by your side.

Advertisement

عمران کا نوازشریف پر مودی کی زبان بولنے کا الزام، کراچی کی ترقی کے لیے دس نکات کا اعلان

کراچی کے لوگ سب سے زیادہ شعور رکھتے ہیں، پاکستان کی تمام سیاسی تحریکیں کراچی سے شروع ہوتی ہیں

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کو پی ٹی آئی کے دس نکات کے ذریعے ایک عظیم شہر بنائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے گلشن اقبال میں‌ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگ سب سے زیادہ شعور رکھتے ہیں، پاکستان کی تمام سیاسی تحریکیں کراچی سے شروع ہوتی ہیں.

پہلا نکتہ: کراچی انتظامیہ کا سسٹم بدل دیں گے
دوسرا نکتہ: سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنائیں گے
تیسرا نکتہ: صحت کا نظام بہتر بنائیں گے
چوتھا نکتہ: پولیس کا نظام ٹھیک کریں گے
پانچواں نکتہ: کاروباری ماحول کوبہتر بنائیں گے

عمران خان کے دس نکات

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل پر سب سے پہلے کراچی والے کھڑے ہوتے ہیں، کراچی کو منی پاکستان کہا جاتا تھا، کراچی اوپر جاتا ہے تو پاکستان اوپر جاتا ہے.

عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کراچی والے بڑی سوچ رکھیں اور بڑے خوا ب دیکھیں، میں بہ طور کرکٹر بڑے خواب اور سوچ رکھتا تھا اس لئے اللہ نےکامیابی دی، ورلڈ کپ جیتا، اسپتال بنایا، سیاسی جماعت بنائی تو سب نے میرا مذاق اڑایا مگر ہمت نہ ہاری. جتنے بڑے خواب ہوں گے اتنے ہی بڑے آپ بنیں گے.

انھوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کے امریکا کے ایئرپورٹ پر کپڑے اتار دیے گئے، جب ایک وزیراعظم کی عزت نہیں تو قوم کی کیا عزت ہوگی، اللہ تقدیر بدلنے کا موقع کبھی کبھی دیتا ہے اور وہ موقع ہمیں مل گیا ہے، پاکستان وہ ملک بن سکتا ہے، جس کا علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں مہاجر، پشتون اور سندھیوں کو ووٹ کے لئے لڑایا گیا، کراچی روشنیوں کا شہر تھا، جسے نفرت کی سیاست نے تباہ کر دیا۔

انھوں نے بانی متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہ خود لندن چلے گئے، لوگوں میں احساس محرومی کو اپنی ذات کے لئے استعمال کیا، تیس سال سے لندن میں بیٹھ کر مہاجروں کی بات کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اندرون سندھ میں آج غربت کی انتہا، تعلیم کا برا حال ہے، تھرپارکر میں کھانا نہ ملنے سے بچے مررہے ہیں ، انسانوں پر جس قسم کا ظلم ہورہا ہے اس طرح معاشرے ترقی نہیں کرتے۔

انھوں نے کہا کہ نفرت کی سیاست نے کراچی کو تباہ کردیا ہے، سب سے پہلے پاکستان سے کرپشن کی دیمک کو ختم کرنا ہے، شریف برادران کہتے ہیں کہ کرپشن روکی توترقی رک جائے گی۔ ادارے مضبوط نہیں کریں گے، تو کراچی اور پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔

چھٹانکتہ: سستی بجلی لائیں گے
ساتواں نکتہ: کھیلوں کی سہولیات فراہم کریں گے
آٹھواں نکتہ: کراچی میں اربن ٹری نظام لائیں گے
نواں نکتہ: سیوریج کا نظام بہتر بنائیں گے
دسواں نکتہ: سرکلر ریلوے بحال کریں گے

عمران خان کے دس نکات

انھوں نے کہا کہ سندھ میں نیب کچھ کرتی ہے، تو آصف زرداری کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں ہے، پنجاب میں نیب کچھ کرےنوازشریف کہتےہیں یہاں جمہوریت خطرے میں ہے، نیب نے مجھ پر ہیلی کاپٹر کا کیس کیا، میں نے تو خوش آمدید کہا ہے، نیب کے پی میں دیکھے، کس نے کرپشن کی ہے، تو ہم اسے فارغ کریں گے۔ ہم نے ابھی 20ایم پی اے فارغ کئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت کرکے اداروں کو تباہ اور سیاسی بھرتیاں کرائی گئیں، آصف زرداری اور نوازشریف نےپاکستان کا دیوالیہ کر دیا، پیسہ لوٹ کر باہر لے جانے والوں سے سارا پیسہ واپس لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 70 فیصد ریونیو کما کر دینے والے کراچی میں پانی نہیں ہے،لینڈ اور پانی کا مافیا کراچی کو ٹھیک نہیں ہونے دیتا، پاکستان کےتمام شہروں میں میئر کا براہ راست الیکشن کرائیں گے، ایڈمنسٹریشن کو بھی تبدیل کریں گے، ایڈمنسٹریشن کا تجربہ رکھنے والے کو میرٹ پر میئر بنائیں گے۔

عمران خان نے کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کوخودمختاری ملی، مگر نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں ہوئے، کراچی اور سندھ میں سرکاری اسکولوں کا برا حال ہے، کراچی کے 70فیصد بچے پرائیوٹ اسکول میں جاتے ہیں۔


نوازشریف تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں

عمران خان نے کہا کہ سوچا تھا آج نواز شریف کا نام نہیں لوں گا، نظرآرہا ہے کہ نوازشریف تھوڑے دنوں میں اڈیالا سے تقریر کریں گے۔ نوازشریف نے انٹرویومیں کہا کہ ممبئی حملے کے لئے لوگ پاکستان سے گئے، نوازشریف جب چار سال وزیراعظم تھے تب ضمیر نہیں جاگا، یہ ایسا ہی ہے، جیسے بلاول بھٹو کہتا ہے کہ میری والدہ کے قاتل کو پکڑو۔

انھوں نے کہا نوازشریف کی وفاداری پاکستان سے نہیں ہے، عالمی سطح پر پاکستانی فوج کے خلاف سازش کی جارہی ہے، نوازشریف پاکستانی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، اداروں کی ساکھ کی نہیں، اپنے 300 ارب کی فکر ہے، نوازشریف چوری چھپانے کے لئےعدلیہ، نیب اور فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، وہ آج مودی کی زبان بول رہے ہیں، ان کی اصلیت سامنے آگئی ہے۔


عمران خان کے پاس جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی صلاحیت نہیں، بلاول بھٹو


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں