The news is by your side.

Advertisement

‘لوگ کہہ رہے ہیں تھری اسٹوجز نے ملک کو بچانا ہے تو بہتر ہے عمران کے ساتھ ڈوب جاؤ’

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کے تین بڑے رہنماؤں کو ‘تین کٹھ پتلیاں’ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا، انھوں نے کہا کہ ‘لوگ کہہ رہے ہیں تھری اسٹوجز نے ملک کو بچانا ہے تو بہتر ہے عمران کے ساتھ ڈوب جاؤ’۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے اوورسیز کنونشن سے خطاب میں کہا کہ ساری قوم نے دیکھا ہے کہ اگر ان چوروں نے ملک کو بچانا ہے تو بہتر ہے عمران کے ساتھ ڈوب جاؤ، یہ تینوں کپتان کی بندوق کی شست کے سامنے آگئے ہیں، ان کو لگتا تھا قوم ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی مگر یہ قوم کو جانتے نہیں۔

انھوں نے کہا ‘تھری اسٹوجز’ کی شکلیں سب دیکھ رہے ہیں، انھوں نے مجھ پر احسان کیا ہے انھیں برا بھلا نہیں کہوں گا، ایک طرف نوازشریف، دوسری طرف آصف زرداری اور تیسری طرف فضل الرحمان ہے، ان کا شکریہ ادا کرنے دیں، انھوں نے پی ٹی آئی کو کھڑا کر دیا، اور عوام کو مہنگائی بھلا دی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا فضل الرحمان کو ڈیزل کہنا ن لیگ نے شروع کیا تھا، ن لیگ کے ایک رنگ باز نے فضل الرحمان کا نام ڈیزل رکھا تھا ہم نے نہیں، ڈیزل نام اس لیے پڑا کیوں کہ اس نے ڈیزل سے پیسہ بنایا تھا، انھوں نے میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا فیصلہ کیا، عدم اعتماد کی تحریک دینے پر میں نے دو نوافل شکرانے کے ادا کیے۔

عمران خان نے کہا شہباز شریف ٹوکرے کا پھل لے کر رشوت دینے جاتا تھا، زرداری جعلی پرچہ دکھا کر اقتدار میں آیا، ان کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ لوگ ان کی کرپشن بھول گئے، میں پیش گوئی کرتا ہوں صرف عدم اعتماد ہی ناکام نہیں بلکہ 2023 کا الیکشن بھی ان کے ہاتھ سے گیا، یہ کپتان کے ٹریپ میں آ گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا نواز شریف اوباما کے سامنے بیٹھا تھا اس کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں، نواز شریف نے گھبراہٹ میں اوباما کو مسز اوباما کہہ دیا، مغربی ممالک جب چاہیں ان کو منی لانڈرنگ میں پکڑ سکتے ہیں، لیکن اپنا پیسہ بچانے کے لیے یہ 22 کروڑ عوام کو بڑی طاقتوں کا غلام بنا لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا نہ میں اینٹی امریکا، نہ اینٹی برطانیہ میں تو اینٹی انڈیا بھی نہیں، کسی بھی ملک کی پالیسی کے خلاف ہو سکتے ہیں مگر لوگوں کے نہیں، میں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے خلاف ہوں، ہندوستان میں پڑھے لکھے لوگ ہندوتوا کی مخالفت کرتے ہیں، بھارت کشمیر میں 5 اگست 2019 کا قدم واپس لے تو ہم بات چیت کر سکتے ہیں، برکھا دت نے اپنی کتاب میں لکھا نواز شریف اپنی فوج سے ڈر کر مودی سے چھپ کر ملتا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا ملک اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات سے چل رہا ہے، اب میں چاہتا ہوں اوورسیز پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، اوورسیز کو جوائنٹ وینچر اور انویسٹمنٹ پر 5 سال تک ٹیکس ہالی ڈے ملے گا، تمام سفارت خانوں کو کہا ہے کہ اوورسیز کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں