The news is by your side.

Advertisement

مستقبل میں‌ مذہبی رہنما اصول تیار کرنے کی ضرورت ہے، پوپ فرانسس

رباط : مسیحی برادری کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے انتہا پسندی سے نمٹنے کےلیے مبلغین اسلام کو تربیت فراہم کرنے کے عمل کو خوب سراہا۔

تفصیلات کے مطابق مسیحی برادری کے رومن کیتھولک فرقے کے سربراہ پوپ فرانسس نے 34 برس بعد دورہ مراکش کے موقع پر جنونیت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مستقبل کے لیے مذہبی رہ نما اصولوں کی مناسب تیاری کی ضرورت ہے۔

پوپ فرانسس نے ضمیر کی آزادی اور مذہبی آزادی کا انسانی وقار کے بنیادی حق کے طور پر دفاع کیا ہے۔

مسیحوں کے روحانی پیشوا نے مختلف عقیدوں کے پیروکاروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ باہمی بھائی چارے کے ساتھ مل جل کر رہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کسی بھی رومن کیتھولک پیشوا کا 34 برس بعد یہ پہلا دورہ ہے، انہوں نے مراکش پہنچنے کے فوراً شاہ محمد ششم کے ہمراہ آئمہ اور اسلام کے مرد و خواتین مبلغین کی تربیت کےلیے تیار کردہ مراکز کا دورہ کیا۔

مزید پڑھیں : دہشت گرد جوکر رہے ہیں وہ مذہب نہیں‘ پوپ فرانسس

مراکش کے سربراہ محمد ششم کا کہنا تھا کہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ علم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، بنیاد پرست سخت گیری کا کوئی فوجی یا مالی حل نہیں بلکہ اس کا واحد حل تعلیم ہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام دہشت گردوں میں مشترکہ چیز مذہب نہیں بلکہ اس سے لاعلمی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں