The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں‌ ایک مسلم نوجوان بدترین تشدد کا شکار، ملزمان نے ہاتھ بھی کاٹ دیا

نئی دہلی : بھارتی ہندووں نے ایک اور مسلم نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ہاتھ تن سے جدا کردیا جبکہ پولیس نے الٹا متاثرہ لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر پانی پت میں ایک نوجوان کو مسلمان ہونے کے جرم میں بے دردی سے مارپیٹ کے بعد ایک کاٹ کر علیحدہ کردیا جو اسپتال میں زندگی کو موت کی جنگ لڑرہا ہے۔

پولیس نے متاثرہ نوجوان کو ہاتھ تلاش کرلیا ہے تاہم اہل خانہ پولیس سے انصاف کی امید نہیں کیونکہ پولیس نے نوجوان کے خلاف ہی مقدمہ درج کیا ہوا ہے۔

متاثرہ نوجوان اخلاق سلمانی کے بھائی کا کہنا ہے اخلاق 24 اگست کو سہارنپور کے قصبہ نانوتا سے پانی پت گیا تھا تاکہ کوئی کام کرسکے لیکن ہندووں نے اسے مسلمان ہونے کی بناء پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

اکرام سلمانی کا کہنا کہ میرا 28 سالہ بھائی کے سر پر اینٹ ماری گئی، اس کے پیر میں کیل چبائی گئی جبکہ ایک بھی کاٹ دیا گیا جسے ہم نے جائے وقوعہ سے آٹھ کلومیٹر دور تک تلاش کیا لیکن ہاتھ نہیں ملا، اور اب پولیس نے اسی مقام سے میرے بھائی کا تلاش کیا ہے۔

اکران نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے بعد میں اکرام کا ہاتھ وہاں لاکر ڈالا ہے حملے کو ٹرین حادثہ دکھایا جاسکے۔

اخلاق سلمانی کی اہل خانہ نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ملزمان کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔

متاثرہ نوجوان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اخلاق کا ایک ہاتھ اسی لیے کاٹا کیون کہ اس کے ہاتھ پر 786 لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ’بسم اللہ الرحٰمن الرحیم‘ ہوتا ہے۔

دوسری جانب ملزم جے پال سینی کے فریق نے الزام عائد کیا ہے کہ اخلاق ان کے بچے کو چوری کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں