The news is by your side.

Advertisement

سابقہ حکومتوں میں جنریشن پر کام کیا گیا مگر ترسیلات پر نہیں، شبلی فراز

اسلام اباد : وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ ترسیلی نظام میں زیادہ سے زیادہ 24 ہزار میگاواٹ برداشت کرنے کی گنجائش ہے، حکومت بجلی کی پیداوار کے ترسیلاتی نظام پر کام کررہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ بریک ڈاون کے 45 منٹ کے اندر تصدیق کرکے میڈیا کو آگاہ کردیا تھا، بجلی کی پیداوار کے بعد سب سے اہم ترسیلات ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلیک آؤٹ کی وجہ سے بجلی کی ترسیل میں تعطل پیدا ہوا، بجلی کا سیکٹر ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، بدقسمتی سے توانائی سیکٹر پر خاص ڈائریکٹرشن میں کام ہوا ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں جنریشن پر کام کیا گیا مگر ترسیلات پر نہیں، ماضی میں ترسیلات اور ڈسٹریبیوشن پر توجہ نہیں دی گئی۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاور پلانٹ کی تکمیل دو سے 3 سال میں ہوجاتی ہے، بجلی بنتی ہے تو ایسا ترسیلاتی نظام چاہیے ہوتا ہے ، ٹیکنالوجی کی استعداد بڑھانے کیلئے سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 36 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیداوار کی صلاحیت ہے، ترسیلی نظام میں زیادہ سے زیادہ 24 ہزار میگاواٹ برداشت کرنے کی گنجائش ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں