The news is by your side.

Advertisement

ایف بی آر کا لاکھوں ٹیکس دہندگان کیخلاف غیرمعمولی کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے میں ناکام رہنے والے8 لاکھ ٹیکس دہندگان کو نوٹسز جاری کردیے، اس بار ٹیکس دہندگان کو سزا دینے کا حیران کن فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

حکومت نے ٹیکس سال 2020 کے لیے 8 دسمبر کی آخری تاریخ سے قبل انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے میں ناکام رہنے والے تقریبا 8 لاکھ ٹیکس دہندگان کو نوٹسز جاری کردیے۔

اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے پروگرا باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون قاضی عمیر علی نے کہا کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو چاہیئے کہ ریٹرنز فائل جمع کرانے کیلئے پچھلے سال طرح اس سال بھی اضافی وقت دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ٹیکس دینے والا کسی بھی وجہ سے مقررہ وقت میں ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کراتا تو اس کا نام اس سال کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں نہیں آتا جو خود ایک بڑی سزا ہے جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی لین دین میں اس کو دس کی جگہ 20فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے طریقہ کار کے برعکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ عہدیداروں نے ٹیکس دہندگان کو سزا دینے کا غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔

یہ وہ ٹیکس دہندگان ہیں جو نہ صرف ٹیکس رول پر موجود ہیں بلکہ گزشتہ سالوں میں باقاعدگی سے گوشوارے بھی جمع کرواتے رہے ہیں، یہ نوٹس ٹیکس دہندگان کو ای فائلنگ سسٹم آئی آر آئی ایس کے ذریعے سے پیش کیے گئے۔

ایف بی آر کو گزشتہ روز تک 18 لاکھ 82 ہزار گوشوارے موصول ہوئے جبکہ گزشتہ سال 19 لاکھ 10 ہزار گوشوارے موصول ہوئے تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ28 ہزار 354 افراد نے اب تک اپنا ریٹرن فائل نہیں کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 2019 کے لیے آخری تاریخ ابتدا میں30 ستمبر2019 مقرر کی گئی تھی جس میں توسیع دیتے ہوئے اسے28فروری تک بڑھایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے پر جرمانہ 40 ہزار روپے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں