The news is by your side.

Advertisement

مسلم نوجوان کا قتل : اسد الدین اویسی نے مودی حکومت کو بے نقاب کردیا

بھارتی مسلمان رہنما اور ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ اترپردیش کے مسلمانوں کو جاگنا ہوگا، اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان متحد ہوجائیں۔

ضلع علی گڑھ میں بہت بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شرکیاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اترپردیش کے مسلمانوں اب سوچنے سمجھنے اور سیاسی قیادت بنانے کا وقت آگیا ہے۔

ایم آئی ایم صدر نے اپنے خطاب میں تمام سیاسی جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں میں تمام سیاسی جماعتیں ملک کے مسلمانوں کے ووٹ کا استعمال کرتی آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کی صورتحال یہ ہے کہ ہماری مسجدیں تک محفوظ نہیں ہیں، نہ ہماری خواتین محفوظ ہیں، نہ ہی ہمارا کوئی مستقبل ہے، کوئی ہماری آواز نہیں بنتا، صرف انتخابات سے قبل ہماری یاد آتی ہے اور ہمارے ووٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب میں بی جے پی کی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تم ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہو، ملک میں ایک مذہب نافذ کرنا چاہتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اتر پردیش میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں، مسلمانوں پر ظلم و زیاتی کی جارہی ہے، مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میرے دوستوں اور بزرگوں اس کا ایک ہی جواب ملتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی سیاسی قیادت نہیں ہے۔

اویسی نے اپنے خطاب میں ملک اور خاص طور پر اترپردیش میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے واقعے میں الطاف نامی شخص کے قتل پر کہا کہ پولیس والوں کو معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیہس حواست میں ہونے والے الطاف کے قاتلوں پر دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے ان کو گرفتار کرنا چاہیے مگر ایسا نہیں ہوگا کیونکہ مرنے والے کا نام الطاف ہے۔

اگر مرنے والے کا نام الطاف نہ ہوکر گپتا ہوتا یا اعلی ذات کا ہوتا تو پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کیا جاتا،گرفتار بھی عمل میں لائی جاتی، وزیر اعلیٰ جود گھر پہنچ جاتے، مگر مرنے والے کا نام الطاف ہے تو خالی معطل اور تبادلے پر بات ٹال دی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں