The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر: سکیورٹی رسک کا بہانہ، کشمیریوں کے روایتی لباس پر پابندی عائد

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں جہاں بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھارہی ہے وہیں انتظامیہ نے روایتی لباس پر بھی پابندی عائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے سیکورٹی رسک کا بہانہ بناکر کشمیریوں کے روایتی لباس پھیرن پہننے پر پابندی عائد کردی۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نئے حکم نامے میں محکمہ تعلیم کے دفاتر اور سول سیکڑیٹریٹ میں پھیرن پہن کر داخلے پر پابندی عائد کردی گئی۔

فوجی اداروں اور پولیس کیمپوں میں پھیرن پہن کر داخل ہونا پہلے ہی ممنوع ہے، پھیرن کمشیریوں کا روایتی لباس ہے جو عموما سردیوں میں پہنا جاتا ہے۔

پھیرن پر پابندی کے خلاف سوشل میڈٰیا پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کشمیریوں نے پھیرن کو صرف پہناوا نہیں بلکہ اپنی ثقافت قرار دیا۔

دوسری جانب آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے دلدوز مظالم کے خلاف ملکی سینیٹ میں قرارداد منظور کر لی گئی، اجلاس سے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے خطاب کیا۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کے خون پر کسی صورت سیاست نہیں کریں گے، ماضی میں ہماری حکومتیں کشمیر پر غفلت کی ذمہ دار رہی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں