site
stats
عالمی خبریں

بھارت کا جنگی جنون، 6 ایٹمی آبدوزوں کی تیار ی کے منصوبے کا آغاز

نئی دہلی : بھارت کا جنگی جنون ہے کہ کم ہونے میں ہی نہیں آتا، ہندوستانی نیوی نے بحیرہ ہند پر تسلط کیلئے 6 جوہری آبدوزوں کی تیاری کے پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت نے بحیرہ ہند پر اپنا تسلط قائم کرنے اور پڑوسی ممالک پر دبا ئو بڑھانے کیلئے چھ جوہری آبدوزوں کی تیاری کے پروگرام پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

نئی دلی میں پریس کانفرنس میں بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان آبدوزوں کی تیاری سے بھارت بحریہ کی حملہ کرنے کی صلاحیت میں زبردست اضافہ ہو جائے گا، خطے میں روایتی اور غیر روایتی چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے صورتحال پر مسلسل نظر برقرار رکھنے اور اس سے نمٹنے کے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔

ایڈمرل سنیل لامبا نے کہا کہ بھارتی بحریہ کے پاس ابھی دو جوہری آبدوز ہیں ، جس میں ایک ارھنت جیسے ملک میں ہی بنایا گیا جبکہ دوسر ا روس سے لیز پر لیا گیا ہے۔ مزید چھ جوہری آبدوز بنانے کا کام بحریہ کے سب میرین بیڑے کی اس سال منائی جا نے والی گولڈن جوبلی کے دوران شروع کیا گیا ہے۔

بھارتی ایڈمرل کا خیال ہے کہ ان آبدوزوں کی تیاری کے بعد بھارتی بحریہ امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مشترکہ بحری قوت کا حصہ بن سکے گی۔


مزید پڑھیں : بھارتی آبدوزوں کی انتہائی حساس معلومات منظرعام پر


اس سے قبل آسٹریلوی اخبار نے چھ بھارتی اسکارپئین آبدوزوں کے بارے میں حساس معلومات کا کچا چھٹہ کھول کر رکھ دیا تھا، سٹریلوی میڈیا کے مطابق بائیس ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل خفیہ ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق بھارت نے فرانس کے دفاعی کنٹریکٹر ڈی سی این ایس کو اسکورپین آبدوز کے ڈیزائن کی مد میں 3 ارب 45 کروڑ ڈالر فراہم کئے۔

ان دستاویزات میں آبدوزوں کے پورے نظام، جنگی صلاحیت، ٹارپیڈو لانچ، نیویگیشن اور مواصلات کا نظام ، پانی کے اندر اور اس سے اوپر سینسرز کی تفصیلات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال بھارتی بحریہ کی آبدوز پاکستان کے سمندروں میں داخل ہونے کی کوشش کو پاک بحریہ نے بر وقت ردعمل دیتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top