The news is by your side.

Advertisement

ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے حافظ جنید کی والدہ تین سال سے انصاف کی منتظر

نئی دہلی : بھارت میں متعصبانہ ذہنیت رکھنے والے شرپسندوں کے ہاتھوں مسلمان ہونے کے جرم میں قتل ہونے والے 15 سالہ جنید کو تین سال بعد بھی انصاف نہ مل سکا، بیٹے کی یاد میں والدہ کی حالت بھی قابل رحم ہوگئی۔

بھارت کے شہر میوات سے تعلق رکھنے والے15 سالہ حافظ جنید کو دہلی سے عید کی خریداری کرنے کے بعد ٹرین کے ذریعے واپس لوٹتے وقت ہندو انتہا پسندوں نے چاقوؤں سے حملہ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، اس واقعہ کو تین سال گزر چکے ہیں لیکن جنید کی والدہ سائرہ خاتون کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔

سائرہ خاتون نے میڈیا کو اپنا درد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن میرے تین بچے خون سے لت پت پڑے ہوئے تھے اور صدمہ کی وجہ سے میرے شوہر کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا، عید سے پہلے میرے بچے کو شہید کردیا گیا، یوں لگتا ہے کہ ہماری زندگی میں اب کبھی عید نہیں آئے گی۔

سائرہ خاتون کہتی ہیں کہ نظام ہی خراب ہے کوئی ملزمان کے خلاف گواہی نہیں دینا چاہتا، ہمارے گھر میں تو کھانے کے بھی لالے ہیں، مہینوں سے گھر میں صرف ایک وقت ہی کی سبزی بنتی ہے، سب کا روزگار ختم ہو چکا ہے، جن لوگوں نے جنید کو قتل کیا وہ بہت طاقتور اور پیسے والے ہیں۔

سائرہ کا مزید کہنا ہے کہ کل تک جو خیرخواہ ہوا کرتے تھے آج وہ فون بھی نہیں کرتے، تین سال ہو گئے مجھے میرا جنید بہت یاد آتا ہے، اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

یاد رہے کہ سال 2017 کی 22 جون کو عید کی خریداری کر کے گھر واپس لوٹنے والے 15سالہ حافظ جنید کا بے رحمی سے شہید کردیا گیا تھا، انتہا پسند ہندوؤں نے اس پر 22 بار چاقو سے حملہ کیا تھا.

حافظ جنید شہید میوات کے کھنداولی گاؤں کا رہائشی تھا اور محض 13 سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔ حملہ میں جنید کے بھائی شاکر کو بھی شدید زخمی کیا گیا تھا شاکر کا ایک ہاتھ اب کام نہیں کرتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں