The news is by your side.

Advertisement

مشترکہ تہذیبی وراثت

جب ہم ہندوستان کے اجتماعی ذہن کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ فلسفیانہ افکار، مذہبی عقائد رسم و رواج، حیاتِ اجتماعی کا شعور، انفرادی زندگی کا ادراک، تصوّر و تخیّلات کے خاکے، رسا طبیعتوں کا ظہور، انسانی اقدار کا تحفظ جیسے جن تصوری عناصر نے ہندوستان کے ذہن پر اثر ڈالا وہ سب کے سب خود ہندوستان کی سرزمین میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان میں زیادہ تر باہر سے آئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان عناصر نے ہندوستان کی مختلف جماعتوں اور گروہوں کو مختلف انداز میں مختلف حد تک متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب اور تہذیبیں پائی جاتی ہیں، لیکن ان کا ایک حصّہ ایسا بھی تھا جو ذہنِ اجتماعی میں جذب ہوگیا اور ملک کی سب جماعتوں اور سب تہذیبوں میں مشترک بن گیا۔

ہندوستان کی تہذیبی تاریخ پر اگر آپ غور کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ہندوستان میں جب بھی باہر سے کوئی نیا نظامِ فکر داخل ہوا تو وقتی طور پر تو باہمی اختلافات پیدا ہوئے لیکن اسی کے ساتھ ہندوستانی ذہن نے اپنا کثرت میں وحدت پیدا کرنے کا عمل شروع کردیا اور ایک مدّت کے بعد مختلف عناصرِ تہذیب نے ایک حد تک امتزاج پیدا کرکے ایک مشترکہ تہذیب کی بنیاد قائم کردی۔

مشترکہ تہذیبی وراثت کی لَو سے مذہبی رواداری کی روشنی پھیلنے کے متعلق ڈاکٹر سیّد محمد عقیل لکھتے ہیں: ’’کسی قوم یا کسی تہذیب کا وجود بغیر اس جذباتی اہم آہنگی، اتحاد اور یگانگت کے ممکن نہیں جو کسی تاریخی دور کے ایک مخصوص کلچر کے اندرونی حصّوں میں گڈ مڈ ہو کر بہا کرتی ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر جب ہندوستان کے تہذیبی ورثے کا مطالعہ کیا جائے تو نیگرائڈ، پرٹوآسٹرلائیڈ، دراوڑ، آریائی اور بعد کی اسلامی، تاتاری تمام تہذیبی تبدیلیاں ایک مخصوص وقت میں یہی نتیجے برآمد کرتی تھیں۔ قومیت، قومی یک جہتی، جذباتی ہم آہنگی، ہم جو نام چاہیں اسے دے لیں مگر مختلف دور میں انسانوں میں میل جول، ایک ساتھ مل جل کر اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے، طبقات کی زندگی میں اونچ نیچ یا سیاسی زبردستیوں سے آزاد ہونے کے لیے اسی خیال، فکری، جذباتی اور معاشرتی یکجہتی کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔

جب اس ہم خیالی کا دائرہ تنگ ہو کر صرف فرقوں تک محدود ہو جاتا ہے تو یہیں سے فرقہ پرستی اور تعصب کی بھی ابتدا ہوسکتی ہے اور اگر وسیع ہو کر ایک خطۂ ارض پر محیط ہو جاتا ہے تو ایک جغرافیائی حدود کے اندر رہنے والوں کی نمائندگی ہونے لگتی ہے، جسے موسیقی، مصوری، فنِ تعمیر، ادب، لباس، رسم و رواج اور فکر و نظر کے اتار چڑھاؤ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں یہ صورت ہڑپا، موئن جو دڑو سے لے کر پاٹلی پتر، اجنتا، ایلورا، کھجوراہو، تاج محل، لال قلعہ، نانک، کبیر، ریداس، جائسی، معین الدین چشتی، فرید گنج شکر، پران ناتھ، بھکتی اور پریم مارگ، اکبر، جہانگیر، خسرو، دارا شکوہ اور اردو زبان میں دیکھی جاسکتی ہے۔‘‘

مشترکہ ہندوستانی تہذیب وہ خاموش بہتا ہوا دریا ہے جس میں دو دھارے آپس میں مل گئے ہیں۔ اس میں ایک دھارا ہندو تہذیب کا ہے جو آریوں کے آنے کے ساتھ ہی وسط ایشیا کے اثرات ساتھ میں لایا تھا اور یہاں کی دراوڑی تہذیب سے مل کر ایک مکمل تہذیب کی شکل اختیار کرچکا تھا۔ دوسرا دھارا اسلامی تہذیب کا ہے جو عربی، ایرانی اور ترکی اثرات لے کر ہندوستان میں آٹھویں صدی میں بہنے لگا تھا۔ لیکن گیارہویں صدی کے آخر میں کچھ تیز ہو کر تیرہویں صدی تک پورے زور و شور کے ساتھ شمال سے جنوب کی طرف بڑھنے لگا۔ دونوں دھاروں کے ملنے سے جو تہذیب پروان چڑھی اس کو کبھی تو ہند اسلامی تہذیب کہا گیا، کبھی ہند ایرانی، کبھی گنگا جمنی اور کبھی مشترکہ تہذیب کہا گیا۔ نام چاہے جو رکھ دیجیے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ دونوں تہذیبوں نے ایک دوسرے پر زبردست اثر کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں