The news is by your side.

Advertisement

بھارت کا دریائے ستلج، راوی اوربیاس کا پانی روکنے کا دعویٰ

لاہور : بھارت نے ستلج، بیاس اور راوی کا پانی روکنے کادعوی کردیا، انڈس واٹرکمیشن حکام کا کہنا ہے بھارت کے پانی روکنے کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، ایسا ہوا توعالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت سرحدی دہشت گردی کے بعد پاکستان کیخلاف آبی دہشت گردی پر اتر آیا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب اور جہلم پر نئے منصوبوں اور تین دریاؤں کا پانی روکنے کا دعویٰ کردیا۔

پاکستان نے بھارتی دعوے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی نہیں روک سکتا، اکستان کو ابھی تک بھارتی انڈس کمیشن حکام نے مطلع بھی نہیں کیا۔

انڈس واٹرکمیشن حکام کا کہنا ہے پاک بھارت پانی پر مذاکرات الیکشن کی وجہ سے تاخیر میں جا سکتے ہیں، پانی پر پراپیگنڈہ کرنا بھارت کی پرانی عادت ہےپھربات چیت پر آجاتا ہے، منسٹری پانی و بجلی بغور جائزہ لے رہی ہے، بھارت نےایسا کیا توعالمی ثالثی عدالت سےفوری رجوع کیا جائےگا۔

حکام نے کہا بھارت کی جانب سے فوری پانی روکے جانےکاامکان کم ہے، بھارت کو پانی کا رخ موڑنے میں کئی سال لگیں گے۔

خیال رہے بھارتی وزیرمملکت برائے آبی وسائل ارجن میگھوال نے راوی، ستلج اوربیاس کا پانی روکنے کا دعوی کیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ ماہ بھارتی وزیر نتن گڈکری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا تھا کہ وزیرِ اعظم مودی کی زیرِ قیادت ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو جانے والے 3 دریاؤں کا پانی روکا جائے گا اور مشرقی دریاؤں کا پانی موڑ کر جموں و کشمیر اور پنجاب میں اپنے لوگوں کو دیا جائے گا۔

مزید  پڑھیں: بھارتی وزیر نے پاکستان کا پانی روکنے کا مضحکہ خیز دعویٰ کر دیا

بعد ازاں ڈپٹی انڈس کمشنر شیراز میمن کا کہنا تھا کہ کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا ، بھارت کے پاس ہمارے دریاؤں کا پانی روکنے کی صلاحیت نہیں ہے، پانی روکنے کا بیان بھارت کی گیڈر بھبکی ہے۔

ڈپٹی انڈس کمشنر نے مزید کہا تھا بھارت میں لوگ سیاسی باتیں کرتے رہتے ہیں، ایسی باتوں پر عمل ممکن نہیں، مودی نے وزیرِ اعظم بنتے ہی بریفنگ لی تھی، مودی کو اسی وقت ہی معلوم ہو گیا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنا ممکن نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں