The news is by your side.

Advertisement

جامن توڑ کر کیوں کھائے ؟ دو دلت ذات کے بچوں پر بہیمانہ تشدد

بھارت میں دلت برادری پر انتہا پسند ہندوؤں کے مظالم آج بھی جاری ہیں، چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کو بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ایسا ہی واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں پیش آیا جہاں دلت ذات کے بچے ایک نجی اسکول کے احاطہ میں لگے درخت سے کچھ جامن توڑ کر کھا رہے تھے اسی دوران اسکول کے مالک کیلاش نے انہیں پکڑ کر درخت سے باندھ کر ان پر بے تحاشہ تشدد کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش میں گیہوا گاؤں کے ایک باغ کے مالک نے 10 اور 11 سال کے دو دلت لڑکوں کو مبینہ طور پر درخت سے باندھ کر گھنٹوں بے رحمی سے پیٹا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگئے۔ یہ سزا دلت بچوں کو اس لیے دی گئی کیونکہ انہوں نے باغ سے جامن توڑے تھے۔

بچوں کے گھر نہ پہنچنے پر جب ان دلت لڑکوں کی مائیں انہیں ڈھونڈنے نکلیں تو دیکھا کہ وہ درخت سے بندھے ہوئے بے ہوش پڑے ہیں۔

بچوں کے اہل خانہ نے قریبی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کو مطلع کیا لیکن بدھ کو سوشل میڈیا پر بچوں کی تصویریں شیئر کیے جانے کے بعد ہی پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔

پولیس نے 25سالہ مرکزی ملزم کیلاش ورما کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے وقت ملزم شراب کے نشے میں تھا۔

دونوں بچوں کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسکول کے مالک کیلاش نے انہیں درخت سے باندھ دیا اور جم کر پٹائی کی۔ بچوں کے رونے اور بار بار رحم کی بھیک مانگنے پر بھی اس نے بچوں کو نہیں چھوڑا۔

بچوں کے اہل خانہ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم کیلاش کے گھر والے ہمیں شکایت واپس لینے کے لیے منانے کی کوشش کر رہے، لیکن ہم نے انہیں منع کر دیا ہے۔ محمدی تھانے کی پولیس نے دونوں بچوں کو طبی معائنے کے لیے اسپتال بھیجا جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں