The news is by your side.

Advertisement

حجاب تنازعے کے شعلے بھارت کی دیگر ریاستوں تک پھیل گئے

نئی دہلی: بھارت میں اسکولوں اور کالجوں میں مسلمان طالبات کے حجاب پر پابندی کا تنازع دیگر ریاستوں تک پھیل گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرناٹک سے شروع ہونے والے حجاب تنازعے نے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے، کرناٹک ، مدھیا پردیش اور اتر پردیش کے بعد اندھرا پردیش میں بھی حجاب پہنی طالبات کو کلاس میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

واقعہ علی گڑھ کے دھرم سماج ڈگری کالج میں پیش آیا، جہاں انتظامیہ کی جانب سے حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کالج میں برقعہ پہنی دو طالبات کو کلاس میں دخلے سے روکا تو طالبات نے کالج کے باہر احتجاج کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کالج انتظامیہ نے آناً فاناً ڈریس کوڈ نافذ کرتے ہوئے کالج کیمپس میں برقع اور گمچھا پر پابندی عائد کرنے کا نوٹس چسپاں کر دیا، جس پر مسلم طلبا میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: طالبات ڈٹ گئیں، اسکول چھوڑ دیا حجاب نہ اتارا

ڈی ایس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راج کمار ورما نے بتایا کہ ہم ان طلبا کو برداشت نہیں کریں گے جو چہرہ ڈھانپ کر کالج آتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ کالج میں پڑھنے کے لیے آنے والے طلبہ چہرہ کھول کر آئیں۔ ہم نے چیف پراکٹر کے ساتھ ایک منصوبہ بنایا ہے اور نوٹس کالج کے باہر چسپاں کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ریاست کرناٹک میں ٹیچر نے کالج میں حجاب اتارنے کے حکم پر استعفی دے دیا ہے، جین پی یو کالج کی لیکچرار نے کہا کہ حجاب اتارنے اور پڑھانے سے ان کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے اور وہ ٹھیک محسوس نہیں کر رہی ہیں۔ اس لئے انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ حجاب تنازعہ کا معاملہ فی الحال کرناٹک ہائیکورٹ میں ہے اور تعلیمی اداروں میں حجاب سمیت کسی بھی قسم کا مذہبی لباس یا لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں