The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں مقبوضہ کشمیر جیسی پابندیاں لگ گئیں، 26 ہلاک، 700 گرفتار

نئی دہلی: مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر جیسی پابندیاں اب بھارت میں بھی لگانا شروع کردی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر پابندیوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے، بھارتی شہر جے پور میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

مودی سرکارنے ریاست جے پور میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی ہے، میٹرو ٹرین سروس بھی بند کرا دی گئی۔

دوسری طرف آر ایس ایس کا ایجنڈا بھارت میں آگ لگانے لگا ہے، شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہنگاموں پر کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔ پولیس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی، مودی سرکار نے کئی مسلم علاقوں کو مقبوضہ کشمیر بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت میں احتجاج اب ایک بڑی تحریک بن چکا ہے: عمران خان

مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران 700 افراد گرفتار کر لیے گئے، متعدد شہروں میں کالج ،اسکول اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے، مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج بھی تعینات کر دی گئی، حیدر آباد دکن میں تاریخی جلسہ کیا گیا، کانگریس نے حکومت کے خلاف پیر کو دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سمبھل، بجنور، کانپور، مظفر گڑھ، رامپور اور لکھنؤ میں بھی پولیس گردی کے نتیجے میں اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنؤ میں انٹرنیٹ پیر تک معطل رہے گا۔

ادھر جے پور کے ایم ایس سی میں راجھستان یونی ورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ آننت مشرا کو کانووکیشن تقریب میں کالج اسٹوڈنٹس پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کے طور پر بازو پر سیاہ پٹی باندھنے کے ’جرم‘ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں مسلم مخالف متنازع قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، اترپردیش میں پولیس گردی کے نتیجے میں گزشتہ روز 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد اترپردیش میں ہلاک مظاہرین کی تعداد 11 ہوگئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں