The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور رسوائی : نام نہاد جمہوریت بے نقاب

امریکہ کے ایک آزاد ڈیموکریسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فریڈم ہاؤس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت میں سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں بہت تیزی سے زوال کی جانب جارہی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اب تک سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں سلب کی جارہی ہیں اور2019 میں مودی حکومت کے بعد سے اس کے زوال میں بہت تیزی آئی ہے۔

فریڈم ہاؤس” نے جمہوری ملک کے طور پر بھارت کی رینکنگ کم کرتے ہوئے اسے “آزاد” سے “جزوی آزاد” کی فہرست میں رکھا ہے۔ ساتھ ہی یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں  ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جمہوری آزادی میں نہ صرف بھارت پیچھے ہو رہا ہے بلکہ بھارت نے جمہوریت کے  راستے پر چلنے کے بجائے ایک شدت پسند ہندو مفادات والے ملک کی شکل اختیار کرلی ہے۔

یاد رہے کہ “فریڈم ہاؤس” امریکہ کا ایک آزاد ڈیموکریسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اپنی رپورٹ میں اس ادارہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر بہیمنانہ تشدد، صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور استحصال کے واقعات کے علاوہ عدالتی معاملات میں مداخلت کے واقعات میں مزید شدت آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام واقعات میں تیزی اس وقت آئی جب سال2014میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت انے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی۔

ادارہ نے اپنی رپورٹ میں کورونا بحران کے دوران بغیر کسی تیاری کے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن پر بھی تنقید کرت ہوئے لکھا ہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب لاکھوں مزدوروں اور محنت کشوں کو نہ صرف روزگار سے محروم ہونا پڑا بلکہ انہیں سیکڑوں میل پیدل چل کر اپنے گھروں تک جانا پڑا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوتوا پسند قوم پرستوں نے کورونا انفیکشن کے لیے غلط طریقے سے مسلمانوں
کو بھی “قربانی کا بکرا” بنایا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں