The news is by your side.

Advertisement

بھارت : مزدوری مانگنا مسلم نوجوان کا جرم بن گیا، بہیمانہ تشدد

نئی دہلی : اترپردیش میں دانش نامی لڑکے کو صرف اس لیے بری طرح مارا پیٹا گیا کہ اس نے مندر کی اتظامیہ سے اپنی مزدوری طلب کی تھی، اس کے علاوہ ایک اور نوجوان آصف کو مندر سے پانی پینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے اپنی روش نہ بدلی بلکہ اس میں مزید شدت آتی جا رہی ہے، نام نہاد جمہوریت کے دعویدار ملک میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

بھارتی ریاست اترپردیش میں مذہب کے نام پر نفرت کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یوپی کے اٹاوہ میں دانش نامی ایک نوجوان جمنا ندی کے پاس گاؤں کے مندر میں مزدوری کر رہا تھا۔

دانش اینٹ بالو لوڈر گاڑی سے تین بار لایا شروع میں دو بار تو مندر انتظامیہ اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئی لیکن جب دانش نے تیسری بار سامان لانے کا معاوضہ مانگا تو انتظامیہ نے اس کا نام پوچھا اور اس کے ساتھ مسلمان ہونے کی بنا پر تشدد کیا گیا۔

اس حوالے سے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مندر انتظامہ نے الزام عائد کیا کہ دانش نے موبائل فون چوری کیا ہے جبکہ نوجوان کو صرف مسلمان ہونے کے جرم میں رسیوں سے باندھ کر پائپ سے بری طرح مارا پیٹا گیا۔

اطلاع ملتے ہی اٹاوہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مندر سے دو افراد کو حراست میں لے لیا جن میں سے ایک بی جے پی کا رہنما بتایا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں