The news is by your side.

بھارت کا روس سے ڈالر کے بجائے ایشیائی کرنسیوں میں لین دین

نئی دہلی: بھارت روس سے کوئلہ خریدنے کے لیے ڈالر کے بجائے ایشیائی کرنسیوں کا استعمال کر رہا ہے، ریزرو بینک آف انڈیا نے اجناس کے لیے بھی بھارتی روپے میں ادائیگیوں کی منظوری دے دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کسٹم دستاویزات اور انڈسٹری ذرائع کے مطابق روس پر عائد مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بھارتی کمپنیاں روسی کوئلے کی درآمدات کی ادائیگی کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے اکثر ایشیائی کرنسیوں کا استعمال کر رہی ہیں۔

اس سے قبل بھارت کی جانب سے کوئلے کے ایک بڑے معاہدے کی اطلاع دی گئی تھی جس میں چینی یو آن کا استعمال کیا گیا تھا لیکن کسٹم کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں لین دین عام ہوتا جا رہا ہے۔

یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بھارت نے روسی تیل اور کوئلے کی خریداری میں جارحانہ انداز میں اضافہ کیا ہے جس سے روس کو پابندیوں کے اثرات سے بچنے میں مدد ملی اور بھارت نے روس کی جانب سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں رعایت پر خام مال حاصل کیا۔

جولائی میں روس، بھارت کا تیسرا سب سے بڑا کوئلے کا فراہم کنندہ بن گیا جب جون کے مقابلے میں اس کی درآمدات 5 گنا اضافے سے 20 لاکھ 6 ہزار ٹن ہوگئیں۔

بھارت میں تجارتی ذرائع کی جانب سے کسٹم دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے مرتب کیے گئے سودوں کے خلاصے کے مطابق جون میں بھارتی خریداروں نے کم از کم 7 لاکھ 42 ہزار ٹن روسی کوئلے کی ادائیگی امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے کی، جو کہ اس ماہ کل 17 لاکھ ٹن روسی درآمدات کے 44 فیصد کے برابر
ہے۔

کسٹم دستاویزات کے مطابق بھارت میں اسٹیل اور سیمنٹ بنانے والوں نے حالیہ ہفتوں میں متحدہ عرب امارات کے درہم، ہانگ کانگ ڈالر، یو آن اور یورو کا استعمال کرتے ہوئے روسی کوئلہ خریدا ہے۔

جون میں روسی کوئلے کے لیے 31 فیصد ادائیگیاں یو آن اور 28 فیصد ہانگ کانگ کے ڈالر کے ذریعے کی گئیں، تجارتی ذرائع کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ڈالر کے علاوہ ادائیگیوں میں یورو ایک چوتھائی سے کم جبکہ اماراتی درہم کا چھٹا حصہ بنتا ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا نے اجناس کے لیے بھارتی روپے میں ادائیگیوں کی منظوری دے دی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے اس کی کرنسی میں روس کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ کی توقع کی جارہی ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر، بھارتی اجناس کی درآمدات کے لیے غالب کرنسی رہا ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا بیش تر حصہ ڈالر پر مشتمل ہے۔

ڈالر کے علاوہ کسی دوسری کرنسی میں سودوں کے لیے، خریدار کو ممکنہ طور پر اس کرنسی کے بدلے میں تجارت طے کرنے کے لیے اصل کرنسی والے ملک میں بینکوں کی شاخوں (یا جن بینکوں کے ساتھ انھوں نے معاہدہ کیا ہے) کو ڈالر بھیجنا ہوں گے۔

بھارت میں گھریلو صارفین کے لیے کوئلہ خریدنے والے اور یورپ میں روسی کوئلے کا سودا کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ روسی کوئلے کی لین دین کے لیے ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کا استعمال بڑھے گا کیونکہ بینک اور دیگر فریق اپنے آپ کو مزید ممکنہ سخت پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

امریکی ڈالر کا استعمال کرتے ہوئے روسی کوئلہ خریدنا بھارتی کمپنیوں کے لیے غیر قانونی نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں