منگل, مئی 28, 2024
اشتہار

بھارت کی چاند کے بعد سمندر کی تہہ میں جانے کی تیاری

اشتہار

حیرت انگیز

بھارتی مشن چندریان تھری کی کامیابی کے بعد سائنسدان اب سمندر کی گہرائیوں جاکر تحقیق کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے پراجیکٹ سمندریان کے تحت3افراد کو زیرآب 6 ہزار میٹر گہرائی میں بھیجا جائے گا، جس کے لیے ایک خصوصی آبدوز تیار کی جا رہی ہے۔

اس مشن کا مقصد سمندر کی گہرائی میں موجود دھاتوں جیسے کوبالٹ، نکل اور مینگنیز کو تلاش کرنا ہے جبکہ سمندری ماحول کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔اس آبدوز کو میٹسیا 6000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تیاری لگ بھگ 2 سال سے جاری ہے۔

- Advertisement -

اس آبدوز کی اولین آزمائش چنائی کے ساحل کے قریب خلیج بنگال میں 2024 کے شروع میں کی جائے گی۔ یہ ٹائٹن آبدوز کی طرح کی آبدوز ہوگی جسے خصوصی طور پر سمندر کی گہرائی میں انسانی مشنز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ٹائٹن وہ آبدوز ہے جو جون 2023 میں بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے تباہ ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بھارتی سائنسدان میٹسیا 6000 کے ڈیزائن کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

بھارت کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی (این آئی او ٹی) کے سائنسدان اس آبدوز کو تیار کر رہے ہیں اور اس کے ڈیزائن، میٹریل، آزمائشی مراحل اور اسٹینڈرڈ پروٹوکول طے کریں گے۔

بھارتی وزارت ارتھ سائنسز کے سیکرٹری ایم روی چندرن نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ سمندریان مشن پر کام جاری ہے اور اس کی آزمائش 2024 کی اولین سہ ماہی کے دوران سمندر کی 500 میٹر گہرائی میں کی جائے گی۔

اس آبدوز کی تصویر اور دیگر تفصیلات بھارت کے وزیر ارتھ سائنسز کرن ریجیجو نے ایک ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں شیئر کی تھیں۔یہ پراجیکٹ 2026 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔اس وقت امریکا، روس، جاپان، فرانس اور چین ایسے ممالک ہیں جو اس طرح انسان بردار مشن سمندر کی گہرائی میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

این آئی او ٹی کے ڈائریکٹر جی اے رام داس نے بتایا کہ 2.1 قطر کی گول آبدوز میں 3 افراد سفر کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آبدوز کو 80 ملی میٹر موٹی ٹائیٹینیم کی چادر سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور وہ 6 ہزار میٹر گہرائی میں سمندر کی سطح سے 600 گنا زیادہ دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ آبدوز ایک وقت میں 12 سے 16 گھنٹے سفر کرسکے گی جبکہ اس میں 96 گھنٹے کے لیے آکسیجن کی سپلائی موجود ہوگی۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں