The news is by your side.

Advertisement

مسلمانوں کی تعمیر کردہ یادگاروں‌ پر مودی سرکار پلنے لگی

ہندوستان پر مسلمانوں کے دورِ حکومت میں کئی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جن میں محلات، مقابر و قلعے اور دوسری یادگاریں شامل ہیں جو آج بھی اس عظمتِ رفتہ کی یاد دلاتی ہیں۔ تقسیم کے بعد جہاں کئی قدیم اور تاریخی عمارتوں کو بھارتی سرکار کی سرپرستی میں لے لیا گیا، وہیں یہ عظیم یادگاریں اور ان کے آثار بھارتی سرکار کے لیے نعمت ثابت ہوئے اور عوام و دیگر ملکوں سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہونے کے سبب محصول و آمدن کا ذریعہ ہیں۔

بھارت میں اقلیتوں اور موجودہ حالات میں خاص طور پر مسلمانوں کے جان و مال کو شدید خطرہ ہے اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت جنونی اور انتہا پسند ہندوؤں کے آگے بے بس ہے۔ ایک جانب ہندوتوا کا نعرہ بلند کیا جارہا ہے اور دوسری طرف بھارت کے مختلف شہروں میں انتظامیہ مسلم حکم رانوں کے دور کی یادگاروں سے حاصل ہونے والی بھاری رقم کھا رہی ہے۔

یہاں ہم ان 5 یادگاروں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو مسلمان حکم رانوں نے تعمیر کروائی تھیں۔ یہ فنِ تعمیر کا شاہ کار اور افسانوی شہرت کا حامل تاج محل، آگرہ فورٹ، قطب مینار، فتح پور سکری اور ریڈ فورٹ ہیں۔

قطب مینار کی تعمیر دہلی کے حکم راں اور دیگر عمارتیں مغلوں کے دور کی یادگار ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں صرف انہی مسلم دور کی تعمیرات سے بھارتی حکومت نے 146.05 کروڑ کمائے جو دیگر تاریخی عمارات اور یادگاروں کی مجموعی آمدن سے زیادہ ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں