The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں تین طلاقیں ایک ساتھ دینا قابل سزا جرم قرار دینے کا آرڈیننس منظور

نئی دہلی: بھارتی کابینہ نے ایک وقت میں تین طلاقیں دینے کا عمل کو قابل سزا جرم قرار دینے کے آرڈیننس کی منظوری دے دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے حکم کی تکمیل میں ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کے عمل کو قابل سزا جرم قرار دینے کے آرڈیننس کی منظوری دے دی گئی ہے۔

بھارتی وزیر قانون و انصاف روی شنکر کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باعث ترمیمی بل کا ڈرافٹ تیار نہیں ہوسکا تھا، حکومت کے پاس سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے آرڈیننس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں بیک وقت 3 طلاقیں دینا غیر قانونی قرار

گزشتہ سال اگست میں بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دینے کا عمل غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس عمل کی سزا مقرر کرنے کے لیے قانونی سازی کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں مسلمانوں میں رائج اس عام طرز عمل کے خلاف یہ درخواست ایک 35 سالہ مسلمان خاتون نے دائر کی تھی جن کے شوہر نے انہیں 15 سالہ شادی کے بعد بیک وقت 3 طلاقیں دے کر شادی کا اختتام کردیا۔

مذکورہ خاتون کی درخواست کے ساتھ 4 مزید خواتین کی درخواستیں بھی منسلک کی گئی تھیں جو اسی سے متعلق تھیں۔

درخواست دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک آئینی بینچ بنانے کا حکم دیا تھا جسے مسلمانوں کے عام طرز عمل زبانی 3 طلاقوں کے بارے میں غور و حوض کرنے کی ہدایت کی گئی کہ آیا اسے آئینی طور پر درست تسلیم کیا جائے یا نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں