بھارت نے پانی بند کیا تواعلان جنگ تصور ہوگا، مشیر خارجہ -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت نے پانی بند کیا تواعلان جنگ تصور ہوگا، مشیر خارجہ

اسلام آباد: مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت یک طرفہ طور پر نہ تو سندھ طاس معاہدہ ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل یا اس کی خلاف ورزی کرسکتا ہے، پانی بند کرنے کا عمل اعلان جنگ تصور ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مظالم، اقوام متحدہ میں مسلسل ہٹ دھرمی کے مظاہرے، مودی کی آبی دہشت گردی کی دھمکی کے خلاف پاکستان نے بند باندھنے کی ٹھان لی، مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کرنے کی کوشش پاکستان کے ساتھ جنگ تصور کی جائے گی۔

قومی اسمبلی میں توجہ دلاﺅ نوٹس پربات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہاگر بھارت نےسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ہم بھی تیاری کر رہے ہیں،اس معاملے پرعالمی برداری کو آگاہ اوراعتماد میں لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی روک سکتا ہے اور نہ ہی اسے کم کر سکتا ہے، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی، مشیر خارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کی دھمکیوں پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف سہولت کار تھا بلکہ اس معاہدے کا ضامن بھی تھا اور انڈیا یک طرفہ طور پر اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس پر بھر پور احتجاج کرے گا اور اس معاملے کو عالمی بینک اور بین الااقوامی عدالت میں لے کر جایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کےخلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے، بھارت کی طرف سے دھمکی آمیز لہجہ افسوس ناک ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

قبل ازیں بھارتی آبی دہشت گردی کے خلاف سیاسی قیادت یک جا نظر آئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے بھی کہہ دیاکہ بھارت پانی بند کرے گا تو یہ جنگ کے مترادف ہوگا۔

سرتاج عزیز نے پالیسی بیان میں مزید کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے مکمل دستاویزی ثبوت کے ساتھ معاملہ جلد اٹھا رہے ہیں، پاکستان بھارتی مداخلت اور کلبھوشن کے نیٹ ورک سے متعلق دستاویزات اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کو پیش کرے گا۔

یاد رہے کہ سال 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرقی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جب کہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں