The news is by your side.

Advertisement

مجرمانہ غفلت : بھارت میں مسلمان کی لاش ہندو کے حوالے، رسومات ادا

بھوپال : بھارت میں اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث دو ہندو اور مسلم خواتین کی لاشیں تبدیل ہوگئیں، ہندو لواحقین نے آخری رسومات بھی ادا کر ڈالیں۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں مقامی اسپتال کی مجرمانہ غفلت سامنے آئی ہے جہاں دو خواتین کی لاشیں تبدیل ہوگئیں۔

کھجوریں کے علاقے کی رہائشی45 سالہ شیلجا بائی اور لال گھاٹی کی رہنے والی 70 سالہ نفیسہ بی بی کی کورونا سے موت واقع ہوئی تھی جن کی لاشیں لینے کے لیے ان اہل خانہ کو اسپتال بلایا گیا۔

اسپتال میں شیلجا بائی کے دیور نارائن کو لاش دکھا کر شمشان گھاٹ بھیج دیا گیا اور انہوں نے ہندو رسم و رواج کے تحت مرحومہ کی آخری رسومات بھی ادا کردیں۔

دوسری جانب مرحومہ نفیسہ بی بی کا بیٹا عبدل جب اپنی والدہ کی لاش لینے پہنچا تو میت کا چہرہ دیکھ کر پہچاننے سے انکار کر دیا جب کہ لاش پر لگی پرچی پر نفیسہ کا نام لکھا تھا۔

اس صورتحال کے بعد اسپتال میں ہنگامہ مچ گیا اور اسپتال انتظامیہ نے جب فون کر کے نارائن کو بلا کر دوسری لاش دکھائی تو اس نے اس لاش کو اپنی بھابھی شیلجا بائی کے نام سے شناخت کیا۔

واقعے کے بعد دونوں مردہ خواتین کے اہل خانہ اور اسپتال انتظامیہ کو اصل صورتحال کا علم ہوا۔ اسپتال کے عہدیدار نے کہا کہ یہ بہت بڑی لاپروائی ہے اور ہم اس پر سخت سے سخت کارروائی کریں گے۔

واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے صورتحال کے ذمہ دار دو ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اس واقعے کی ایف آئی آر نفیسہ کے بیٹے عبدل نے تھانے میں کروا دی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں