اتوار, اپریل 6, 2025
اشتہار

بھارت: وقف ترمیمی بل کو عام آدمی پارٹی نے بھی چیلنج کردیا

اشتہار

حیرت انگیز

نئی دہلی: بھارت میں وقف ترمیمی بل 2025 کی مخالفت زور پکڑ گئی، کانگریس کے بعد عام آدمی پارٹی نے بھی اس متنازع بل کو چیلنج کردیا۔

اپوزیشن جماعتیں بھارت میں وقف ترمیمی بل کے خلاف میدان میں آگئیں، عام آدمی پارٹی کے رہنما، دہلی کے اوکھلا حلقے سے ایم ایل اے اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس متنازع بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما امانت اللہ خان نے کہا کہ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی خودمختاری پر حملہ ہے، یہ بل اقلیتوں کے اُن بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے جن کے تحت وہ اپنے مذہبی اور رفاہی اداروں کا انتظام چلاتے ہیں۔

امانت اللہ خان کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وقف ترمیمی بل کو غیرآئینی قرار دے کر مسترد کیا جائے۔

وقف ترمیمی بل غیرآئینی اور مسلمانوں کی توہین، اسدالدین اویسی نے بل پھاڑ دیا

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بل بھارتی لوک سبھا کے دونوں ایوانوں میں 2 اور 3 اپریل کو ہونے والی طویل بحث کے بعد منظور کیا گیا تھا، بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے تھے۔

اس کے علاوہ راجیہ سبھا میں 128 ووٹ بل کے حق میں اور 95 مخالفت میں آئے تھے۔ بل کو منظوری کے لیے بھارتی صدر کو ارسال کیا جائے گا۔

مختلف مسلم تنظیموں نے بھی وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بل کا مقصد وقف املاک پر حکومتی کنٹرول کو بڑھانا اور مسلم اداروں کو بے اختیار بنانا ہے۔

اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمان اور بہار کے کشن گنج سے ایم پی محمد جاوید بھی عدالت میں بل کے خلاف درخواست دائر کرچکے ہیں۔ محمد جاوید اس بل پر بنائی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ وقف ترمیمی بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرتا ہے، جو آئین کے مطابق مذہبی آزادی کے منافی ہے۔

بھارت میں متنازع وقف بل منظور، کانگریس کا بل کو چیلنج کرنے کا اعلان

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں