The news is by your side.

Advertisement

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو اور کشمیری نوجوان شہید، تعداد پانچ ہوگئی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے فوری طورپر پبلک سیفٹی ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ، یہ قانون کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے۔

سرینگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج اسلام آباد اورسوپور میں دو اور نوجوان کو شہید کردیا جس سے گزشتہ روز سے مقبوضہ علاقے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کرپانچ ہوگئی۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ایک نوجوان کو ضلع اسلام آبادمیں کے پی روڈ پر گولی مار کر شہید کردیا۔ایک نوجوان کو سوپور کے علاقے واڈورہ میںجاری محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائی کے دوران شہید کیاگیا۔

فوجیوں نے واڈورہ میں منگل کی شام کو ایک نوجوان کو شہید کردیا تھا۔بھارتی فوجیوں نے ضلع شوپیاں کے علاقے ایونیرہ میں بھی گزشتہ روزایسی ہی ایک اور کارروائی کے دوران شاکر احمد اور سیار احمد نامی دونوجوانوں کو شہید کردیا تھا اوردو مکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔

اس سے قبل ضلع اسلام آبا د کے علاقے کے پی روڈ میں ایک جھڑ پ کے دوران بھارتی فوج کی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے تین اہلکار ہلاک اور ایک ایس ایچ او سمیت چھ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ جنگلات منڈی ہسپتال میں تین سی آر پی ایف اہلکاروںکی لاشیںلائی گئی ہیں۔ قابض انتظامیہ نے سوپور قصبے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی جبکہ سب ڈویژن سوپور میںتعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات جاری کئے ۔

بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے سرینگر جموں ہائی وے پرسفر کرنے والی گاڑیوںپر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ٹرانسپورٹروں کی پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی بری طرح متاثر رہا ۔

ہڑتال کی کال جموں وکشمیر ٹرانسپوٹرز ایسوسی ایشن نے دی تھی ۔ مشترکہ حریت قیادت نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند آزادی پسند قیادت اور نوجوان کارکنوں کے ساتھ بھارتی جیل حکام کے غیر انسانی اور ظالمانہ رویے کی شدید مذمت کی ہے ۔

ادھرانسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالا قانون ”پبلک سیفٹی ایکٹ“فوری طور پر منسوخ کرنے پرزور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون قابض انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم یہ بات میڈیااور دیگر فریقوں کو ای میل کئے گئے ایک بیان میں کہی ہے جو قابض انتظامیہ کی طرف سے تنظیم کو سرینگر میں ایک تقریب کے دوران ”غیر قانونی قانو ن کے مظالم“کے عنوان سے رپورٹ جاری کرنے سے روکنے کے بعد ای میل کی گئی ۔

بیان کے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ کشمیرمیں احتساب ، شفافیت اور انسانی حقوق کے احترام کو سبوتاژ کرنے کیلئے فوجداری نظام عدل میں رکاوٹ کا سبب ہے ۔

بیان میں کہاگیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کامتن قیدیوں کے خلاف منصفانہ طورپر مقدمات چلانے کے حق کے احترام سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت بھارت کی متعدد ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا باعث ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں