site
stats
عالمی خبریں

سونے سے بنی شرٹ اور زیورات زیب تن کیے رکھنے والے بھارتی شخص کا قتل

سونے سے بنی شرٹ اور زیوارات پہنے ہوئے دتّہ پھوگے بھارت میں سونے کے آدمی کہلائے جانے تھے،انہیں نامعلوم افراد نے قتل کردیا،قتل کی وجہ اور قاتلوں کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔

دتہ پھوگے نامی شخص اُس وقت مقبولیت کے عروج پر پہنچا گیا جب سنہ 2003 میں انھوں نے سونے سے بنی تین کلو گرام وزنی قمیض پہنی تھی جس کی قیمت ڈھائی لاکھ ڈالر کے لگ بھگ تھی۔

دتہ پھوگے ہاتھوں کی انگلیوں میں جگمگاتی سونے کی انگوٹھیاں،کلائیوں میں سونے کے بھاری کڑے اور گلے میں مختلف ساخت اور اوزان کے ہار اور لاکٹس زیب تن کیے رکھتے تھے۔

GOLD MAN POST

سر سے پاؤں تک سونے کو اپنا لباس اور آرزئش بنانے والے دتہ پھوگے جلد ہی پورے بھارت میں “سونے کا آدمی” کے نام سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے،اِن کے منفرد انداز نے جہاں ان کو سب سے ممتاز کردیا وہیں کچھ تنقید کا بھی سامنا بھی رہا۔

گزشتہ روز یہ افسوسناک خبر ملی ہے کہ “سونے کے آدمی” کو ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سُلا دیا گیا ہے انڈین پولیس کا دعوی ہے کہ دنیا کی سب سی مہنگی قمیضوں میں سے ایک سونے کی قمیض پہننے والے انڈین شہری کو مبینہ طور پر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اب تک کی موصول اطلاعات کے مطابق دتہ پھوگے کے بیٹے کو جمعرات کی رات ایک کھلی جگہ پر سالگرہ کی دعوت پر مدعو کیا گیا تھا جب وہ اپنے صاحبزادے کے ہمراہ تقریب میں پہمچے تو وہاں موجود درجن بھر نامعلوم افراد نے ڈنڈوں اور چھریوں سے اُن پر حملہ کردیا.اُن کی موت تیزدھار نوکیلی چیز کی ضربیں لگنے سے ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دتہ پھوگے کو 22 سالہ بیٹے کو کسی نے سالگرہ میں دِغی کے علاقے میں مدعو کیا جہاں دتہ پھوگے کا بہ طور مہمان خصوصی استقبالیہ دینا تھا،استقبالیے کے بجائے اُن پر حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا،اس موقع پر اُن کا بیٹا بھی موجود تھا جسے ملزمان نے چھوڑ دیا جب کہ بیٹے نے بھی ملزمان کا نہ تو پیچھا۔

اڑتالیس سالہ دتہ پھوگے کا کہنا تھا کہ ہر شخص کا اپنا اپنا شوق اور مشغلہ ہوتا ہے، کوئی نئی نئی گاڑیاں رکھتا ہے، کوئی محل بناتا ہے تو کوئی نادر و نایاب چیزیں جمع رکھتا ہے ایسے ہی میرا شوق سونا زیب تن کیے رکھنا ہے میں سونے کو منافع کے لیے جمع نہیں رکھتا بلکہ سونے کو زیبائش کے لیے سب سے خوبصورت ذریعہ سمجھتا ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top