بھارت میں گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں مسلمان قتل -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں مسلمان قتل

نئی دلی: بھارتی ریاست اتر پردیش میں رہنے والے 50 سالہ مسلمان اخلاق کو مشتعل ہجوم نے ڈنڈے اور پتھرمارمار کر محض اس لئے ہلاک کردیا کہ اس پر گائے کا گوشت کھانے کا شبہ تھا جبکہ ان کے 22 سالہ بیٹے کو شدید زخمی کردیا.

نام نہاد سیکولر بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی، انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو بلاخوف و خطر نشانہ بنانا شروع کردیا، گذشتہ ستر سال سے رہائش پذیر اخلاق پر الزام لگایا گیا کہ محمد اخلاق نے اپنے گھر میں نہ صرف گائے کا گوشت جمع کررکھا ہے بلکہ انکے گھر والے گوشت استعمال بھی کررہے ہیں.

پولیس نے بتایا کہ مندر سے اعلان ہوا کہ محمد اخلاق نے گائے کا گوشت کھایا ہے اور ہجوم نے اخلاق کے گھر پر دھاوا بول دیا، پتھر اور ڈنڈے مار مار کر 50 سالہ محمد اخلاق کو ہلاک کردیا جبکہ ان کے نوجوان بیٹے کو بری طرح مارا پیٹا، جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے، ہجوم نے گھر کی خواتین کو بھی نہیں بخشا اور ان سے بھی بدتمیزی کی.

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے الزام میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان میں سے 6 افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور محمد اخلاق کے گھر سے گوشت کے نمونے حاصل کرکے فرانزک ڈپارٹمنٹ کو بھجوا دیئے ہیں.

دوسری جانب ہلاک ہونے والے محمد اخلاق کی 18 سالہ بیٹی کا کہنا ہے کہ ان کے فریج میں گائے کا نہیں بلکہ ‘بکرے کا گوشت’ تھا.

واضح رہے کہ بھارت کی پانچ ریاستوں گجرات، راجستان، چھتیس گڑھ ، مہاراشٹر اور ہریانہ میں جین میلے کے موقع پر گائے کے ذبح اور گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی گئی تھی.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں