The news is by your side.

Advertisement

بھارت: حکومت کتنی “ذمہ دار” اور معاشرہ کتنا “مہذب”؟؟؟

تحریر: شازیہ ابرار

مسلمانوں کا قاتل، اقلیتوں کا دشمن مودی اور اس کی جنونی سرکار ملک بھر میں انتہا پسندی اور مذہبی تفریق کو ہوا دے رہی ہے اور اقوامِ عالم سمیت تمام ادارے خاموش ہیں۔

کشمیر میں ہزاروں معصوم اور نہتے انسانوں پر بدترین تشدد کر کے ان کی جان لینے والی بھارتی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے آج بھی غیرانسانی سلوک اور بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کرونا کی وبا کے باوجود کشمیر میں عوام کو بنیادی ضروریات اور خاص طور پر طبی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے۔

دوسری طرف شہریت کے متنازع قانون کے بعد بھارت کے مختلف شہروں خاص طور پر دلی میں مسلم کُش حملوں میں متعدد جانیں ضایع ہوچکی ہیں جب کہ مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو نذرِ آتش کیا جارہا ہے جس میں پولیس اور انتظامیہ کا بلوائیوں کو بھرپور تعاون اور مدد حاصل ہے۔

بعض علاقوں میں‌ جنونی اور انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمان خاندانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں ہندو دھرم کی پیروکار سیاسی اور مذہبی شخصیات کے علاقائی سطح پر جلسے اور مختلف علاقوں کے دورے شامل ہیں‌ جن میں ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا جارہا ہے۔

بھارتی سماج میں مذہبی جنون، انسان دشمنی اور وحشی پن ہر روز بڑھتا نظر آرہا ہے۔ دلی اور دیگر شہروں میں مسلمانوں کو بات بات پر مارنے پیٹنے اور کسی طرح کا نقصان پہنچانے کے علاوہ بہانے سے اور طرح طرح کے الزامات لگا کر بدترین تشدید کے دوران ہلاک کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔

بھارتی دارالحکومت کے ایک علاقے میں‌ محبوب نامی نوجوان کو کرونا وائرس پھیلانے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ مسلمان نوجوان شہید ہوگیا، یہ قتل بی جے پی کے انتہا پسندوں نے کیا جس کے بعد یہ کہا جائے تو کیا غلط ہو گا کہ بھارتی معاشرہ اس وقت بھی جب کہ دنیا کو ایک بدترین اور کٹھن وقت کا سامنا ہے، درندگی اور جہالت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

کیا اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی بھارتی سماج کو مہذب اور باشعور کہا جانا چاہیے؟ اسی طرح بھارتی حکم راں اس لائق ہیں کہ اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک انھیں ذمہ دار اور عوام دوست تصور کریں؟

Comments

یہ بھی پڑھیں