The news is by your side.

Advertisement

سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دکھایا، کانگریس اپوزیشن رہنما

نئی دہلی: کانگریس کے اپوزیشن رہنماء سیتا رام نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلائے گئے سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق کوئی شواہد نہیں دکھائے گئے تاہم ڈی جی ایم اوز کی بریفنگ دکھائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کانگریس کے اپوزیشن رہنماء سیتا رام نے بھارتی حکومت کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو گزشتہ شب حملے سے متعلق دی گئی بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اجلاس میں حکومت کی جانب صرف ڈی جی ایم اوز کی بریفنگ دکھائی گئی تاہم سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دکھایا گیا‘‘۔

پڑھیں:  بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ، 2 فوجی اہلکار شہید، وزیراعظم کی شدید مذمت

 انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکام نے تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں صرف بریفنگ دی اور سرجیکل اسٹرائیک پر کوئی بات نہیں کی اور لائن آف کنٹرول پر ہونے والی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے سے متعلق کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔

متعلقہ خبر پڑھیں: پاکستان نے سرجیکل اسٹرائیک کے بھارتی دعوی کو مسترد کردیا

یاد رہے گزشتہ شب بھارت نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے بھمبھر، تتہ پانی، کیل، لیپہ کے سیکٹروں پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دو فوجی جوان شہید ہوئے تاہم پاکستانی فوج نے بروقت جواب دیتے ہوئے دشمن کی توپوں کو خاموش کروادیا۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوج نے پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، خواجہ آصف

 بھارت کی جانب سے عالمی میڈیا میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پاکستانی چوکیوں پر سرجیکل اسٹرائیک کی گئی تھی تاہم پاک فوج کے تعلقات عامہ نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر بھارت کی جانب سے اس طرح کا حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا اور مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت غلط فہمی میں نہ رہے، ایسا کوئی حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، عاصم سلیم باجوہ


Indian politicians question ‘surgical strike… by arynews
مودی حکومت کی جانب سے حملے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس طلب کی گئی تھی جس میں حکام نے اپنے ہی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بے وقوف بنا دیا جس کا اعتراف کانگریس کے اپوزیشن رہنماء نے اجلاس کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں