The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر : چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 بھارتی فوجیوں‌ کی خودکشی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران دو بھارتی فوجی اہلکاروں نے خودکشی کرلی، 12 سال میں خود کشی کرنے والے اہلکاروں کی تعداد 425 تک پہنچ گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پیرا ملٹری ” انڈو تبت تیئن بارڈر پولیس“ ( آئی ٹی بی پی )کے ایک اور اہلکار نے (اتوار ) کے روز خود کشی کر لی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مقبوضہ علاقے میں خود کشی کر نے والے بھارتی فورسز اہلکاروں کی تعداد دو تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق آ ئی ٹی بی پی کے اہلکار رام پال مینا نے سری نگر کے علاقے سولنہ میں واقع اپنے کیمپ میں سرکاری رائفل سے فائر کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی روپرٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2007سے 31 مارچ 2019 تک مقبوضہ کشمیر میں خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد 425 تک پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز(ہفتے) آ ئی ٹی بی پی کے ایک سب انسپکٹر نے بارہ مولہ کے علاقے کنزر میں اپنے کیمپ میں سروس رائفل سے خود کشی کر لی تھی۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیرمیں قابض انتظامیہ نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو شہید ایڈووکیٹ جلیل اندرابی کی برسی کے حوالے سے سیمینار کے انعقاد سے روک دیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ترجمان کی طرف سے سری نگر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بار نے ’’حق خود ارادیت اور کشمیر میں بھارتی مظالم‘‘ کے عنوان سے سیمینار کے انعقاد کے لیے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سری نگر کو خط لکھا تھا جس کی ایک کاپی رجسٹرار ہائی کورٹ کو بھی ارسال کی گئی تھی۔

بار کونسل کے ترجمان نے بتایا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سیمینار کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جبکہ ماضی میں  بغیر کسی اعتراض کے کے سیمینار ہوتے رہے ہیں، یہ پہلی بار ہوا کہ پرنسپل اینڈ ڈسٹرکٹ سیشنز جج نے سیمینار کی جازت نہیں دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے اجازت نہ دے کر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاد ار کا کردار ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایڈووکیٹ جلیل اندرابی کو بھارتی فوج نے8مارچ 1996 کوسری نگرمیں گرفتار کرنے کے بعد دوران حراست وحشیانہ تشدد کر کے شہید کر دیا تھا۔ ان کی تشدد زدہ لاش تین ہفتے بعد دریائے جہلم سے برآمد ہوئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں