The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی تعریف اور مودی پر تنقید، بھارتی پروفیسر پر شدت پسند طالب علموں کا اندوہناک تشدد

نئی دہلی: بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع وجے پور میں واقع یونیورسٹی کے پروفیسر کو مودی حکومت پر تنقید اور پاکستان کی تعریف کرنا مہنگا پڑ گیا، انتہاء پسند طالب علموں نے استاد پر تشدد کر کے گھٹنے کے بل بیٹھ کر معافی منگوائی اور پوسٹ حذف کرائی۔

تفصیلات کے مطابق سول انجیئرنگ کالج اور یونیورسٹی میں طالب علموں کو علم تقسیم کرنے والے پروفیسر سندیپ وتھار نے اپنے فیس بک پر بھارتی فضائیہ کی کارروائی کو ناکامی قرار دیتے ہوئے جنگی جنون میں مبتلاء مودی حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔

پروفیسر نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی واپسی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے پاکستان کی پُرامن پالیسیوں کو سراہتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین اور سربراہان کو سیکھنے کا مشورہ بھی دیا۔

مزید پڑھیں: مجھے غدار کہنے والے عقل سے پیدل اور جنگی جنون میں‌ مبتلا ہیں، سابق بھارتی جج

یہ بھی پڑھیں: ابھی نندن کی رہائی، عمران خان کا فیصلہ بہادری قرار، بھارتی وزیراعلیٰ کا خراج تحسین

ہلاکتی کالج آف انجینئرنگ میں زیرتعلیم بھارتی شدت پسند طالب علموں نے اپنے استاد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گھٹنوں کے بل بیٹھا کر مغلظات بکیں، طالب علموں نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔

شدت پسندوں نے اپنے پروفیسر سے فیس بک اور ٹویٹر پر کی گئی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور کیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھا کر معافی بھی منگوائی۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پروفیسر سندیپ نے پاک بھارت کشیدگی پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد انہیں شدت پسند تنظیم اے بی وی پی اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے یونیورسٹی کے احاطے میں ہی تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران اُن کے ساتھیوں نے بھی بچانے کی کوشش نہیں کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں