The news is by your side.

Advertisement

ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت، بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے جواب طلب کرلیا

نئی دہلی : بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت پر عدالت نے مودی حکومت سے جواب مانگ لیا، سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے دیگر دس ریاستیں بھی جواب جمع کرائیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے نریندر مودی حکومت سے ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت پر جواب طلب کرلیا ہے، اعلیٰ عدالت نے حکومت سے ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں حکومت سمیت دس ریاستوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جن میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، دلی اور راجستھان کی حکومتوں سے بھی جواب مانگے گئے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت کی اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ نوٹس عدالت نے شوبز سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی49شخصیات کی جانب سے وزیراعظم مودی کو لکھے گئے کھلے خط کے بعد لیا۔

خط میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کیخلاف تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مودی حکومت ملک میں مسلمانوں سمیت دلت اور دیگر اقلیتوں کے قتل عام کو روکے۔ کھلے خط کے متن میں بے گناہ لوگوں قتل عام کے واقعات کو ایک مخصوص طبقے پر ظلم اور غلط بیانیہ قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں سال انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارت میں گائے کے نام پر ہونے والے قتل عام اور بڑھتی ہوئی انتہاء پسندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ رپورٹ میں عالمی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں بڑھتے ہوئے تشدد کو فی الفور روکے۔

عالمی تنظیم کی جانب سے104 صفحات پر مبنی رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ گائے کے گوشت کے استعمال اور جانوروں کے کاروبار سے منسلک تاجروں کو حکمراں جماعت کے رہنماؤں نے اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے نشانہ بنوایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں