The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی پاکستان کو فیٹف میں بلیک لسٹ کرنے کی سازش ناکام

بھارت کی پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) میں بلیک لسٹ کرنے کی سازش ناکام ہوگئی، پاکستان کو گرےلسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیٹف میں بھارت کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی، تمام سازشوں کے باوجود بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہ دھکیل سکا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سہ روزہ اجلاس کے تیسرا اور آخری روز تھا جس میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے منی لانڈرنگ اور ٹیررز فنانسنگ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

فیٹف کے ستائیس میں سے اکیس ایکشن پوائنٹس پر عملدرآمد کی وجہ سے پاکستان کا بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ ٹل گیا۔ فیٹف نے پاکستان کے ایکشن پلان میں پیشرفت پر تعریف کرتے ہوئے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔فیٹف نے پاکستان کو آئندہ سال فروری تک بقیہ نکات پرعملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

بوکھلائے بھارتی صحافیوں نے فیٹف کے صدر سے پاکستان کےحوالے سے سوالات کی بوچھاڑ بھی کی مگر انہیں منہ کی کھانی پڑی۔

انٹرنیشنل کوآپریشن ریویوگروپ رپورٹ میں 21 ایکشن پوائنٹس پرعمل تسلیم کیاگیا، ایف اےٹی ایف نےپاکستان کو کمپلائنس کےلیے 27 ایکشن پوائنٹس فراہم کیے تھے، اب تک پاکستان 21 ایکشن پوائنٹس پر عملدرآمد کر چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ برس فروری تک پاکستان نے 14 ایکشن پوائنٹس پر کمپلائنس کیا تھا، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان میں 16 مرتبہ قانون سازی کی گئی ہے۔

یاد رہے جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا ، اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پاکستان کو اکتوبر2019 تک وقت دیا گیا، جس میں بعد میں مزید چار ماہ توسیع کر دی گئی ۔

پاکستان نے دی گئی اس مہلت میں ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام تیار کرنے کی یقین دہانی کرائی ، جس کے بعد 2020 میں ایف اے ٹی ایف نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے ٹاسک فورس کی جانب سے دیے گئے، ستائیس مطالبات میں سے چودہ پر عملدرآمد کرلیا ہے، تاہم مزید شعبوں میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رکھا۔

واضح رہے ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں جانے کے بعد پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق موجودہ قوانین میں ترامیم کے ساتھ ساتھ بیشتر نمایاں اقدامات اٹھائے ، جن میں کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں