The news is by your side.

Advertisement

شہادتِ بابری مسجد، ایل کے ایڈوانی پر فرد جرم عائد

نئی دہلی : بابری مسجد شہادت کیس میں 25 سال بعد سابق بھارتی وزیراعظم ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی کے 12 رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق شہادتِ بابری مسجد کیس اس وقت کے حکومتی وزراء اور نائب وزیراعظم سمیت 12 ملزمان پر مجرمانہ سازش تیار کرنے اور مسجد پر حملے کو روکنے پر ناکامی کو مجرمانہ غفلت تابیر کرتے ہوئے فرد جرم عائد کر دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فرد جرم عائد ہونے کے موقع پرعدالت میں جے پی کے سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی ، کابینہ کی وزیر اوما بھارتی، سینئر بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی سمیت 12 افراد ملزمان پیش ہوئے

دورانِ سماعت تمام ہی ملزمان صحتِ جرم سے انکارکرتے ہوئے مقدمے کو خارج کرنے کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کردیا اور ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لکھنو کی سی بی آئی خصوصی عدالت نے 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض تمام ملزمان کی ضمانت منظور کی اور بعد ازاں ملزمان کو ان پرعائد الزامات پڑھ کر سنائے گئے جن میں مجرمانہ سازش کا الزام بھی شامل ہے۔

یاد رہے یہ تمام افراد 6 دسمبر 1992 کو درج کی گئی ایف آئی آر میں نامزد ملزمان تھے جن پر ہجوم کو اکسانے اور بابری مسجد کو شہید کرنے کے الزامات تھے اور آج 25 سال بعد فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

خیال رہے دیگر 12 ملزمان میں بی جے پی کے رکن پارلیمان ونے کاٹیار، سادھوی رتمبارا، وشنو ہاری ڈالمیا، رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سربراہ نرتیا گوپال داس، رام ولاس ودانتی، بے کنتھ لال شرما عرف پریم جی، چمپت رائے بنسال، دھرما داس اور ستیش پرادھان شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں