The news is by your side.

Advertisement

بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ

اسلام آباد: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ذرایع نے کہا ہے کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے غیر مستحق سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

سماجی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے بارے میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس حوالے سے ایک انٹرویو میں کہا کہ متعلقہ سرکاری ملازمین کی تفصیلات ان کے شعبوں کو بھجوائی جائیں گی تاکہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔

ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید شفاف بنایا جائے گا، حکومت نے خصوصی مہم میں ایسے 14 ہزار 730 سرکاری ملازمین کی شناخت کر لی ہے، مجموعی طور پر 8 لاکھ 20 ہزار 165 غیر مستحق خواتین کی شناخت ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ سے زائد افراد کو نکالنے کا فیصلہ

دو دن قبل ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 10 سال قبل سروے کے ذریعے مستحقین کا تعین کیا گیا تھا، 10 سال میں لوگوں کے حالات بدل جاتے ہیں، حکومت نے فیصلہ کیا کہ پروگرام سرکاری ملازمین کے لیے نہیں ہے، اس لیے 8 لاکھ سے زاید خواتین کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، یہ اقدام مستحق افراد تک مالی امداد پہنچانے کے لیے اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر مستحق افراد کو 2011 سے ادائیگیاں کی جا رہی تھیں، ایسا شخص جس کے نام پر گاڑی ہو، پی ٹی سی ایل یا موبائل کا بل ایک ہزار سے زائد ہو، ایسے افراد اہل نہیں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں