انڈونیشیا میں ایک مرتبہ پھر سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ، 27 افراد ہلاک Indonesia
The news is by your side.

Advertisement

انڈونیشیا میں ایک مرتبہ پھر سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ، 27 افراد ہلاک

جکارتہ : انڈونیشیا کے صوبے سماٹرا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے اسکول اور گھروں کو ملبے میں تبدیل کردیا، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 12 بچوں سمیت 27 افراد ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے کے مختلف جزیزوں پر زلزلوں، سونامی اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد صوبہ سماٹرا میں سیلاب نے تباہی مچادی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا کے صوبے سماٹرا کے مین ڈیلنگ نٹل ڈسٹرکٹ کے مورا سلادی میں سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اسلامک ویلیج اسکول کی عمارت سمیت 500 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اسکول کے 12 طالب علم سمیت 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ابھی تک 10 بچے لاپتہ ہیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی سرگرامیاں انجام دیتے ہوئے تباہ حال اسکول سے 17 بچوں کو زخمی حالت میں نکال لیا تھا جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ سماٹرا صوبے کے دوسرے حصّے میں سیلاب کے باعث گھروں پر مٹی کے تودے گرنے سے متاثرہ گھروں میں موجود 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے

ریسکیو ٹیموں کا کہنا تھا کہنا تھا کہ مینڈلنگ میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی گاڑی سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی سماٹرا کے علاقے سیبولا میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 100 عمارتیں تباہ ہوئیں ہیں جبکہ 4 دیہاتی ہلاک ہوئے جبکہ 4 افراد شمالی سماٹرا کے مغربی ضلع میں ہلاک ہوئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مغربی ضلع میں تین پُل بھی منہدم ہوگئے ہیں جس کے باعث عوام دیہاتی علاقوں میں محصور ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ چار روز قبل انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی اور شہر پالو میں شدید نوعیت کا زلزلہ آیا تھا جس کے بعد سمندر بھی بپھر گیا تھا اور اور پھر طوفان آیا تھا جس کی زد میں آکر اب 1500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں