The news is by your side.

Advertisement

ماحولیاتی تبدیلی : انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتا سے بورنیو منتقل کرنے کااعلان

جکارتا: انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کا دارالحکومت جکارتا سے جنگلوں سے گھرے مشرقی کنارے پر واقع بورنیو جزیرے منتقل کریں گے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیش کردہ مقام علاقائی شہروں بالکپاپان اور ساماریندا کے نزدیک ہے جہاں قدرتی آفات کا خدشہ کم ہے اور حکومت کے پاس وہاں پہلے ہی4 لاکھ 45 ہزار ایکڑ زمین کی ملکیت موجود ہے۔

 صدر جوکو ویدودو کا ایک ویڈیو میں کہنا تھا کہ بورنیو ایک بہترین جگہ ہے، یہ انڈونیشیا کے وسط میں ہے اور شہری علاقوں سے بھی قریب تر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گورننس، کاروبار، مالیات، تجارت اور سروسز کا مرکز ہونے کی وجہ سے جکارتا پر بوجھ بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

جوکو ویدودو کا کہنا تھا کہ پیش کردہ اقدام پر بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔حکام کا کہنا تھا کہ بورنیو جزیرے پر تعمیرات کا آغاز آئندہ سال سے ہوگا جس میں 15 لاکھ سرکاری افسران کی منتقلی 2024 تک 466 کھرب روپے (33 ارب ڈالر) کی لاگت سے کی جائے گی۔ملیشیا اور برونائی سے ملنے والے بورنیو جزیرے کا حصہ جسے کلیمنتان کے نام سے جانا جاتا ہے، میں بڑے پیمانے پر کان کنی کی جاتی ہے جبکہ یہاں گھنے جنگلات ہیں اور یہ دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں اورانگوتان بستے ہیں۔

ماہر ماحولیات نے دارالحکومت کی تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا کہ اس سے نایاب اورانگوتان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔گرین پیس انڈونیشیا کیمپینر جیسمین پیوتری کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ نئے دارالحکومت کو محفوظ مقامات پر قائم نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کی تبدیلی سے جکارتا میں ٹریفک جام اور شہر کے تیزی سے پھیلنے کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ انڈونیشیا دارالحکومت منتقل کرنے والا جنوبی مشرقی ایشیا کا پہلا ملک نہیں۔اس سے قبل میانمار اور ملائشیابھی اپنے مرکز کو منتقل کرچکے ہیں جبکہ برازیل، پاکستان اور نائیجیریز بھی اپنے دارالحکومت کو منتقل کرچکے ہیں۔

جکارتا میں مقیم پولیٹیکل رسک اینالسٹ کیون او رورکے کا کہنا تھا کہ جاوا جزیرے سے دارالحکومت تبدیل کرنے سے اتحاد مزید مستحکم ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جکارتا میگا سٹی رہے گا اور چند دہائیوں تک مالیات اور تجارت کا مرکز بنا رہے گا تاہم اسے ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں