انڈونیشیا: مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مذہبی خطبات، شکایت پر خاتون کو سزا
The news is by your side.

Advertisement

انڈونیشیا: مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مذہبی خطبات، شکایت پر خاتون کو سزا

جکارتا: انڈونیشیا کی ایک مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مذہبی خطبات کے خلاف شکایت درج کرنے والی خاتون کو ڈیڑھ سال عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق چینی نژاد انڈونیشی خاتون نے موقف اختیار کیا تھا کہ مسجد سے شور کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جس سے ہم پریشان ہوتے ہیں، جس کے بعد انڈونیشیا کی عدالت نے اسے توہین اسلام قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں مذکورہ خاتون کو ایک مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے سنائی دینے والے مذہبی خطبوں کے خلاف شکایت کرنے پر ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اس خاتون نے یہ شکایت جولائی سن 2016 میں کی تھی، انڈونیشی دفتر استغاثہ نے اس خاتون کی شکایت کو ’توہین اسلام‘ قرار دیا تھا اور آج عدالت نے اسے سزا سنائی۔

برلن میں انتہاپسندوں نےمسجد پرحملہ کرکےآگ لگادی

دوسری جانب سزا پانی والی خاتون کے وکیل نے فیصلے کو نہ مانتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید قانون جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سزا پانی والی خاتون کو پولیس نے عدالت سے ہی جیل منتقل کردیا ہے، جہاں وہ اپنی کیے کی سزا کاٹے گی۔

قبل ازیں انڈونیشیا میں گستاخانہ مواد کی تشہیر اور توہین مذہب کے مرتکب ہونے والے دو شہریوں کو عدالت نے 2 سال عمر قید کی سزا سنائی تھی، بعد ازاں ملک کے مختلف علاقوں میں سخت مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں