پاکستان اس وقت شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے بنیادی ضروریات چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، توانائی کے شعبے میں موجود مسائل، سیلاب سے ہونے والے نقصانات، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور سیاسی عدم توازن نے بھی مہنگائی کے بڑھنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے جو مہنگائی کاسلسلہ شروع ہوا اس مہنگائی کو نگران حکومت بھی بریک لگانے میں کہی ناکام نظر آرہی ہے تاہم نگراں حکومت کے آنے کے مسلسل چوتھے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کا تعین کرنے والی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس یعنی قومی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی۔
ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی میں 0.96 فیصد مزید اضافہ ہوا جس کے بعد مہنگائی کی مجموعی شرح 26.32 فیصد ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 32 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ 5 اشیا سستی اور 14 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے ڈیزل 6.28، پیٹرول 5.12 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 5.19 فیصد کا اضافہ ہوا۔
ایک ہفتے میں ٹماٹر 17، دال مسور 10.87، چینی کی قیمت میں 6.73 فیصد، لہسن 4.66، گڑ 3.62 اور دال مونگ 3.55 فیصد مہنگی ہوئی، رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے پیاز اور دال چنا کی قیمت بھی بڑھی۔
ادارہ شماریات نے جارہ کردہ رپورٹ میں بتایا کہ ایک ہفتے میں چکن 3.20 فیصد سستا ہوا جبکہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔