The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ ممبران اور وزیر خزانہ میں دلچسپ مکالمہ، اراکین کے قہقہے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ممبران کمیٹی اور وزیر خزانہ میں دلچسپ مکالمہ ہوا، وزیر خزانہ کے جواب پر اراکین نے قہقہے لگادیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ممبران کمیٹی اور وزیر خزانہ میں دلچسپ مکالمہ ہوا اور وزیر خزانہ کے جواب پر اراکین نے قہقہے لگادیے۔

اجلاس میں اراکین کمیٹی نے وزیر خزانہ کو تجویز دی کہ وہ غریبوں پر ٹیکس لگانے سے گریز کریں، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ 300 سے اوپر جس کا ایک بھی ہندسہ جاتا ہو اسے سارے ٹیکس دینا ہونگے۔

چیئرمین اور اراکین کی اس تجویز پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہے مگر پیسوں کی بہت ضرورت ہے۔

مفتاح اسماعیل کے اس جواز پر سابق وزیر نے کہا کہ تو پھر غریبوں کے بجائے کسی اور کی جیب کاٹیں۔

مفتاح نے جواب دیا کہ غم نہ کریں وہ بھی کاٹیں گے، وزیر خزانہ کے اس جواب پر کمیٹی کے اراکین نے قہقہہ لگادیا۔

اجلاس کے آغاز میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فارما سیوٹیکل کے ری فنڈ آئندہ 4 دن میں ادا کرنے شروع کردیں گے، اگر4 دن میں ریفنڈ کی سلسلہ شروع نہ ہو سکا تو2 ماہ میں پیسے کلیئر کردیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال 14 سے 15 کلو سونا قانونی طریقے سے پاکستان آیا جب کہ ملک میں 80 ٹن سونا اسمگلنگ سےآرہا ہے، ایسے بھی جیولرز ہیں جن کی روزانہ کروڑ سے زائد کی آمدن ہے لیکن جب دکاندار سے پوچھا تو کہا روزانہ 4 ہزار کی سیل ہوتی ہے۔

اجلاس میں شریک سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیز کے لیے سیلز ٹیکس دستاویزی بنایا جائے کیونکہ دواسازی کے ساتھ وہی فیکٹری جوسز بھی بنا رہی ہے، دواساز میک اپ کا سامان بھی بنا رہے ہیں اور سیلز ٹیکس نہیں دیتے، 17 کی بجائے کم سیلز ٹیکس لگائیں گے تو یہ ادا ہی نہیں کریں گے۔

شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر نے ریفنڈ کا نظام خودکار بنایا ہے، فارما والوں کا ریفنڈ رک گیا تو مطلب ہے ان کی دستاویزات پوری نہیں، حکومت کو اس طرح کے مشکل فیصلے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں