site
stats
عالمی خبریں

جرائم کی عالمی عدالت سے تین ممالک کے بعد روس نے بھی ناطہ توڑ لیا

نیدرلینڈ : تین افریقی ممالک نے جرائم کی عالمی عدالت سے علیحدگی کا فیصلہ کے بعد روس نے بھی اس عدالت سے قطع تعلق کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے حامیوں نے بدھ کو افریقہ کے تین افریقی ممالک جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کی طرف سے اس ادارے سے الگ ہو جانے اور روس کی طرف سے اس کی طرف انتہائی معاندانہ رویے کے بعد اتحاد قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

افریقی ممالک کو اعتراض ہے کہ عدالت نے اپنی ساری توجہ افریقی ممالک پر ہی مرکوز کر رکھی ہے، نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں عدالت کے رکن ممالک کے سالانہ اجلاس کے پہلے دن جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کے الگ ہوجانے کا مسئلہ ہی زیر بحث رہا۔

عالمی دائرہ اختیار کی حامل اس عدالت کے سنہ 2002 میں قیام کے بعد سے اب تک کسی ملک نے اس سے علیحدگی کا فیصلہ نہیں کیا تھا جو کہ اب جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کی طرف سے سامنے آیا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بدھ کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں اس عدالت سے علیحدہ ہونے کے فیصلہ کی توثیق کی گئی ہے۔

ماسکو نے روم کے قانون کی کبھی توثیق نہیں کی جس کی روح سے وہ کبھی اس عدالت کا رکن نہیں رہا حالانکہ روس نے سنہ 2000 کے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت روم کا قانون بنایا گیا تھا۔

بین الاقوامی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر فیٹو بنسودا نے تین افریقی ملکوں کے عدالت سے نکل جانے کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ روم کے قانونی نظام کا بحران نہیں ہے بلکہ ایک منصفانہ اور پر امن دنیا کے قیام کی مشترکہ کوششوں کے لیے ایک دھچکہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top