The news is by your side.

Advertisement

خواتین پر تشدد کے خاتمے کا دن: مقبوضہ کشمیر میں خواتین بدترین جنسی تشدد کا شکار

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت خواتین بھارتی فوجیوں کی جانب سے بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ خود بھارت بھی خواتین کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 3 میں سے ایک عورت کو اپنی زندگی میں جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو صرف صنف کی بنیاد پر اس سے روا رکھا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنا، ان پر جسمانی تشدد کرنا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا یا جنسی طور پر ہراساں کرنا، ایسا رویہ اختیار کرنا جو صنفی تفریق کو ظاہر کرے، غیرت کے نام پر قتل، کم عمری کی یا جبری شادی، وراثت سے محرومی، تیزاب گردی اور تعلیم کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا نہ صرف خواتین بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

رواں برس خواتین پر تشدد کے حوالے سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں گھر کو ہی خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 50 ہزار خواتین اپنوں ہی کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے کے بعد قتل ہوئیں۔

ان خواتین کے خلاف پرتشدد اور جان لیوا کارروائیوں میں ان کے خاوند، بھائی، والدین، پارٹنرز یا اہل خانہ ملوث تھے۔

پاکستان میں گھریلو تشدد

پاکستان میں بھی گھریلو تشدد خواتین کی فلاح و بہبود کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاونڈیشن کے مطابق سنہ 2013 میں ملک بھر سے خواتین کے خلاف تشدد کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 7 ہزار 8 سو 52 ہے۔

پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سنہ 2014 میں 39 فیصد شادی شدہ خواتین جن کی عمریں 15 سے 39 برس کے درمیان تھی، گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔

کمیشن کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سال 2015 میں 1 ہزار سے زائد خواتین کے قتل ریکارڈ پر آئے جو غیرت کے نام پر کیے گئے۔

دوسری جانب ایدھی سینٹر کے ترجمان کے مطابق صرف سنہ 2015 میں گزشتہ 5 برسوں کے مقابلے میں تشدد کا شکار ہو کر یا اس سے بچ کر پناہ لینے کے لیے آنے والی خواتین میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔

اوسطاً پاکستان میں ہر سال 5 ہزار خواتین گھریلو تشدد کے باعث جبکہ لاکھوں معذور ہوجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں بے شمار خواتین ذہنی دباؤ یا اہلخانہ کی جانب سے مذموم کارروائیوں کے بعد اپنے بہترین کیریئر کے مواقعوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں جبکہ سماجی طور پر بھی کٹ کر رہنے پر مجبور کردی جاتی ہیں۔

تشدد کے دیرپا اثرات

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین پر تشدد ان میں جسمانی، دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ مستقل تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کئی نفسیاتی عارضوں و پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔

تشدد خواتین کی جسمانی صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور وہ بلڈ پریشر اور امراض قلب سے لے کر ایڈز جیسے جان لیوا امراض تک کا آسان ہدف بن جاتی ہیں۔

دوسری جانب ذہنی و جسمانی تشدد خواتین کی شخصیت اور صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور انہیں ہمہ وقت خوف، احساس کمتری اور کم اعتمادی کا شکار بنا دیتا ہے جبکہ ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بھی ختم کردیتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں وہ خواتین ہیں جو تنازعوں اور جنگ زدہ ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی بدترین حالت زار

گزشتہ 113 دن سے لاک ڈاؤن کا شکار مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں رابطے کے تمام ذرائع بند ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری خواتین بھارتی فوجیوں کی جانب سے بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آتے ہیں۔

کشمیر میں بھارتی فوجی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے خواتین کی عصمت دری کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین سے زیادتی و بے حرمتی کی تمام تر رپورٹس کے باوجود دنیا کشمیر کے معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں