The news is by your side.

Advertisement

غربت کا خاتمہ پہلی ترجیح لیکن نتیجہ صفر

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ترقی پذیر ممالک سے غربت کا خاتمہ اور غریبوں کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔

غربت کے خاتمے کا یہ دن منانے کا آغاز 1993 سے ہوا۔ اس دن دنیا بھر میں غربت، محرومی اور عدم مساوات کے خاتمے، غریب عوام کی حالت زار اور ان کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا پیغام پھیلایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے طے کردہ پائیدار ترقیاتی اہداف میں پہلا ہدف دنیا بھر سے غربت کا خاتمہ ہے تاہم یہ ہدف ابھی بھی اپنی کامیابی سے کوسوں دور ہے۔

پائیدار ترقیاتی اہداف کیا ہیں؟ *

رواں برس یہ دن غربت کے ساتھ ساتھ غریبوں سے روا رکھے جانے والے ذلت آمیز سلوک اور ان کے استحصال کے خاتمے کے مرکزی خیال کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں غریب افراد کی تعداد 3 ارب کے قریب ہے۔ ان افراد کی یومیہ آمدنی ڈھائی ڈالر سے بھی کم ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 25 سال میں 70 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے اوپر آگئے ہیں۔

دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ صوبوں میں سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق ملک کی 38.8 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔

سمندر کنارے پیاسا گاؤں اور غربت کا عفریت *

صوبائی لحاظ سے غربت کی یہ شرح صوبہ بلوچستان میں سب سے زیادہ 55.3 فیصد، صوبہ سندھ میں 53.5 فیصد، صوبہ خیبر پختونخوا میں 50 فیصد اور پنجاب میں سب سے کم صرف 48 اعشاریہ چار فیصد ہے۔

غربت کا شکار ان افراد کی تعداد ایک اندازے کے مطابق تقریباً 8 کروڑ ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے جس کی وجہ مہنگائی میں روز بروز اضافہ، دولت کی غیر مساوی تقسیم، وسائل میں کمی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں