The news is by your side.

Advertisement

جنگلات کا عالمی دن: پاکستان سرسبز مستقبل کی جانب گامزن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج جنگلات کا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس دن کو منانے کا آغاز 28 نومبر 2012 سے کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق کسی ملک میں صحت مند ماحول اور مستحکم معیشت کے لیے اس کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے تاہم پاکستان میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے بعد ملک میں جنگلات کا رقبہ صرف 2.2 فیصد رہ گیا ہے، البتہ بلین ٹرین سونامی منصوبہ پھر سے ملک میں جنگلات کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔

رواں برس یہ دن ’جنگلات اور تعلیم‘ کے مرکزی خیال کے تحت منایا جارہا ہے جس کا مقصد اس تعلیم کو فروغ دینا ہے جس میں درختوں اور جنگلات کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگلات کی حفاظت، تحفظ ماحولیات اور جنگلی حیات کو نصاب کا حصہ بنایا جانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں جنگلات کی محافظ ثابت ہوں۔

پاکستان میں کچھ سال قبل شروع کیے جانے والے ’بلین ٹری سونامی‘ منصوبے نے پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ماحول دوست اقدامات کی بدولت ملک بھر میں شجر کاری اور درختوں کی حفاظت سے متعلق شعور پیدا ہورہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنہ 2015 اور 2016 کے درمیان جنگلات کے رقبے میں 6 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔

ایف اے او کے مطابق پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 3 کروڑ 62 لاکھ سے بڑھ کر 3 کروڑ 68 لاکھ سے زائد ہوگیا ہے تاہم اسی عرصے میں پرانے جنگلات کے رقبے میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

آئی یو سی این کی رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے پر کامیاب عملدر آمد کے بعد خیبر پختونخواہ کا شمار دنیا کے ان علاقوں میں ہونے لگا ہے جس نے عالمی معاہدے ’بون چیلنج‘ کو پورا کرتے ہوئے 35 لاکھ ایکڑ زمین پر جنگلات قائم کیے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کے بعد خیبر پختونخواہ پاکستان کا واحد صوبہ بن گیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر شجر کاری کے ذریعے 35 لاکھ ایکڑ جنگلات کو بحال کیا گیا ہے۔

گزشتہ حکومت میں صوبہ خیبر پختونخواہ تک محدود یہ منصوبہ اب پورے ملک میں شروع کیا جاچکا ہے اور اس کے تحت بڑے پیمانے پر شجر کاری کی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں